Tafsir — Al-An'am 113

← Back to Al-An'am
Al-An'am · Ayah 113 · Al-Anam
وَلِتَصْغَىٰٓ إِلَيْهِ أَفْـِٔدَةُ ٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْـَٔاخِرَةِ وَلِيَرْضَوْهُ وَلِيَقْتَرِفُوا۟ مَا هُم مُّقْتَرِفُونَ
"And [it is] so the hearts of those who disbelieve in the Hereafter will incline toward it and that they will be satisfied with it and that they will commit that which they are committing." — Sahih International
اردو

ابن کثیر اردو

ہماری آنکھیں اور اللہ جل شانہ جس کے یہ اوصاف ہیں یہی تمہارا اللہ ہے، یہی تمہارا پالنہار ہے، یہی سب کا خالق ہے تم اسی ایک کی عبادت کرو، اس کی وحدانیت کا اقرار کرو۔ اس کے سوا کسی کو عبادت کے لائق نہ سمجھو۔ اس کی اولاد نہیں، اس کے ماں باپ نہیں، اس کی بیوی نہیں، اس کی برابری کا اس جیسا کوئی نہیں، وہ ہر چیز کا حافظ نگہبان اور وکیل ہے ہر کام کی تدبیر وہی کرتا ہے سب کی روزیاں اسی کے ذمہ ہیں، ہر ایک کی ہر وقت وہی حفاظت کرتا ہے۔ سلف کہتے ہیں دنیا میں کوئی آنکھ اللہ کو نہیں دیکھ سکتی۔ ہاں قیامت کے دن مومنوں کو اللہ کا دیدار ہوگا، حضرت عائشہ صدیقہ سے مروی ہے کہ جو کہے کہ حضور نے اپنے رب کو دیکھا ہے اس نے جھوٹ کہا پھر آپ نے یہی آیت پڑھی۔ ابن عباس سے اس کے بر خلاف مروی ہے انہوں نے روایت کو مطلق رکھا ہے اور فرماتے ہیں اپنے دل سے حضور نے دو مرتبہ اللہ کو دیکھا سور نجم میں یہ مسئلہ پوری تفصیل سے بیان ہوگا انشاء اللہ تعالیٰ ، اسمعیل بن علی فرماتے ہیں کہ دنیا میں کوئی شخص اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور حضرات فرماتے ہیں یہ تو عام طور پر بیان ہوا ہے پھر اس میں سے قیامت کے دن مومنوں کا اللہ کو دیکھنا مخصوص کرلیا ہے ہاں معتزلہ کہتے ہیں دنیا اور آخرت میں کہیں بھی اللہ کا دیدار نہ ہوگا۔ اس میں انہوں نے اہلسنت کی مخالفت کے علاوہ کتاب اللہ اور سنت رسول ﷺ سے بھی نادانی برتی، کتاب اللہ میں موجود ہے آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ 22؀ۙ اِلٰى رَبِّهَا نَاظِرَةٌ 23؀ۚ) 75۔ القیامۃ :2223) یعنی اس دن بہت سے چہرے ترو تازہ ہوں گے اپنے رب کی طرف دیکھنے والے ہوں گے اور فرمان ہے آیت (كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ) 83۔ المطففین :15) یعنی کفار قیامت والے دن اپنے رب کے دیدار سے محروم ہوں گے۔ امام شافعی فرماتے ہیں اس سے صاف ظاہر ہے کہ مومنوں کے لیے اللہ تعالیٰ کا حجاب نہیں ہوگا متواتر احادیث سے بھی یہی ثابت ہے۔ حضرت ابو سعید ابوہریرہ انس جریج صہیب بلال وغیرہ سے مروی ہے کہحضور ﷺ نے فرمایا کہ مومن اللہ تبارک و تعالیٰ کو قیامت کے میدانوں میں جنت کے باغوں میں دیکھیں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے فضل وکرم سے ہمیں بھی انہیں میں سے کرے آمین ! یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسے آنکھیں نہیں دیکھ پاتیں یعنی عقلیں، لیکن یہ قول بہت دور کا ہے اور ظاہر کے خلاف ہے اور گویا کہ ادراک کو اس نے رؤیت کے معنی میں سمجھا، واللہ اعلم، اور حضرات دیدار کے دیکھنے کو ثابت شدہ مانتے ہوئے لیکن ادراک کے انکار کے بھی مخالف نہیں اس لئے کہ ادراک رؤیت سے خاص ہے اور خاص کی نفی عام کی نفی کو لازم نہیں ہوتی۔ اب جس ادراک کی یہاں نفی کی گئی ہے یہ ادراک کیا ہے اور کس قسم کا ہے اس میں کئی قول ہیں مثلاً معرفت حقیقت پس حقیقت کا عالم بجز اللہ کے اور کوئی نہیں گو مومن دیدار کریں گے لیکن حقیقت اور چیز ہے چاند کو لوگ دیکھتے ہیں لیکن اس کی حقیقت اس کی ذات اس کی ساخت تک کس کی رسائی ہوتی ہے ؟ پس اللہ تعالیٰ تو بےمثل ہے ابن علی فرماتے ہیں نہ دیکھنا دنیا کی آنکھوں کے ساتھ مخصوص ہے، بعض کہتے ہیں ادراک اخص ہے رؤیت سے کیونکہ ادراک کہتے ہیں احاطہ کرلینے کو اور عدم احاطہ سے عدم رؤیت لازم نہیں آتی جیسے علم کا احاطہ نہ ہونے سے مطلق علم کا نہ ہونا ثابت نہیں ہوتا۔ احاطہ علم کا نہ ہونا اس آیت سے ثابت ہے کہ آیت (يَعْلَمُ مَا بَيْنَ اَيْدِيْهِمْ وَمَا خَلْفَهُمْ وَلَا يُحِيْطُوْنَ بِهٖ عِلْمًا) 20۔ طہ :110) صحیح مسلم میں ہے حدیث (لا احصی ثناء علیک کما اثنیت علی نفسک) یعنی اے اللہ میں تیری ثنا کا احاطہ نہیں کرسکتا لیکن ظاہر ہے کہ اس سے مراد مطلق ثنا کا نہ کرنا نہیں، ابن عباس کا قول ہے کہ کسی کی نگاہ مالک الملک کو گھیر نہیں سکتی۔ حضرت عکرمہ سے کہا گیا کہ آیت (لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ ۚ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 6۔ الانعام :103) تو آپ نے فرمایا کیا تو آسمان کو نہیں دیکھ رہا ؟ اس نے کہا ہاں فرمایا پھر سب دیکھ چکا ہے ؟ قتادہ فرماتے ہیں اللہ اس سے بہت بڑا ہے کہ اسے آنکھیں ادراک کرلیں۔ چناچہ ابن جرید میں آیت (وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ) 75۔ القیامۃ :22) کی تفسیر میں ہے کہ اللہ کی طرف دیکھیں گے ان کی نگاہیں اس کی عظمت کے باعث احاطہ نہ کرسکیں گی اور اس کی نگاہ ان سب کو گھیرے ہوئے ہوگی۔ اس آیت کی تفسیر میں ایک مرفوع حدیث میں ہے اگر انسان جن شیطان فرشتے سب کے سب ایک صف باندھ لیں اور شروع سے لے کر آخر تک کے سب موجودہ ہوں تاہم ناممکن ہے کہ کبھی بھی وہ اللہ کا احاطہ کرسکیں۔ یہ حدیث غریب ہے اس کی اس کے سوا کوئی سند نہیں نہ صحاح ستہ والوں میں سے کسی نے اس حدیث کو روایت کیا ہے۔ واللہ اعلم حضرت عکرمہ فرماتے ہیں میں نے حضرت ابن عباس سے سنا کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ تبارک و تعالیٰ کو دیکھا تو میں نے کہا کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ اللہ کو آنکھیں نہیں پا سکتیں اور وہ تمام نگاہوں کو گھیر لیتا ہے، تو آپ نے مجھے فرمایا یہ اللہ کا نور ہے اور وہ جو اس کا ذاتی نور ہے جب وہ اپنی تجلی کرے تو اس کا ادراک کوئی نہیں کرسکتا اور روایت میں ہے اس کے بالمقابل کوئی چیز نہیں ٹھہر سکتی، اسی جواب کے مترادف معنی وہ حدیث ہے جو بخاری مسلم میں ہے کہ اللہ تعالیٰ سوتا نہیں نہ اسے سونا لائق ہے وہ ترازو کو جھکاتا ہے اور اٹھاتا ہے اس کی طرف دن کے عمل رات سے پہلے اور رات کے عمل دن سے پہلے چڑھ جاتے ہیں اس کا حجاب نور ہے یا نار ہے اگر وہ ہٹ جائے تو اس کے چہرے کی تجلیاں ہر اس چیز کو جلا دیں جو اس کی نگاہوں تلے ہے۔ اگلی کتابوں میں ہے کہ حضرت موسیٰ کلیم اللہ نے اللہ تعالیٰ سے دیدار دیکھنے کی خواہش کی تو جواب ملا کہ اے موسیٰ جو زندہ مجھے دیکھے گا وہ مرجائے گا اور جو خشک مجھے دیکھ لے گا وہ ریزہ ریزہ ہوجائے گا، خود قرآن میں ہے کہ جب تیرے رب نے پہاڑ پر تجلی ڈالی تو وہ ٹکڑے ٹکڑے ہوگیا اور موسیٰ بیہوش ہو کر گرپڑے افاقہ کے بعد کہنے لگے اللہ تو پاک ہے میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں اور میں سب سے پہلا مومن ہوں۔ یاد رہے کہ اس خاص ادراک کے انکار سے قیامت کے دن مومنوں کے اپنے رب کے دیکھنے سے انکار نہیں ہوسکتا۔ اس کی کیفیت کا علم اسی کو ہے۔ ہاں بیشک اس کی حقیقی عظمت جلالت قدرت بزرگی وغیرہ جیسی ہے وہ بھلا کہاں کسی کی سمجھ میں آسکتی ہے ؟ حضرت عائشہ فرماتی ہیں آخرت میں دیدار ہوگا اور دنیا میں کوئی بھی اللہ کو نہیں دیکھ سکتا اور یہی آیت تلاوت فرمائی۔ پس جس ادراک کی نفی کی ہے وہ معنی میں عظمت و جلال کی روایت کے ہے جیسا کہ وہ ہے۔ یہ تو انسان کیا فرشتوں کے لئے بھی ناممکن ہے ہاں وہ سب کو گھیرے ہوئے ہے جب وہ خالق ہے تو عالم کیوں نہ ہوگا جیسے فرمان ہے آیت (اَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ ۭ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ) 67۔ الملک :14) کیا وہ نہیں جانے گا جو پیدا کرتا ہے جو لطف و کرم والا اور بڑی خبرداری والا ہے اور ہوسکتا ہے کہ نگاہ سے مراد نگاہ ولا ہو یعنی اسے کوئی نہیں دیکھ سکتا اور وہ سب کو دیکھتا ہے وہ ہر ایک کو نکالنے میں لطیف ہے اور ان کی جگہ سے خبیر ہے واللہ اعلم جیسے کہ حضرت لقمان نے اپنے بیٹے کو وعظ کہتے ہوئے فرمایا تھا کہ بیٹا اگر کوئی بھلائی یا برائی رائی کے دانہ کے برابر بھی ہو خواہ پتھر میں ہو یا آسمانوں میں یا زمین میں اللہ اسے لائے گا اللہ تعالیٰ بڑا باریک بین اور خبردار ہے۔
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
Such is Allah, your Lord! None has the right to be worshipped but He, the Creator of all things. So worship Him (alone), and He is the Guardian over all things (102)No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision. He is the Most Subtle, Well-Acquainted (with all things)(103) Allah is Your Lord Allah said, ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبُّكُمْ (Such is Allah, your Lord!) Who created everything and has neither a son nor a wife, لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ (None has the right to be worshipped but He, the Creator of all things. So worship Him,) Alone without partners, and attest to His Oneness, affirming that there is no deity worthy of worship except Him. Allah has neither descendants, nor acsendants, wife, equal or rival, وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (And He is the Guardian over all things.) meaning, Trustee, Watcher and Disposer of affairs for all things in existence, giving them provisions and protection by day and night. Seeing Allah in the Hereafter Allah said, لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ (No vision can grasp Him) in this life. The vision will be able to look at Allah in the Hereafter, as affirmed and attested to by the numerous Hadiths from the Prophet ﷺ through authentic chains of narration in the collections of the Sahihs, Musnad and Sunan collections. As for this life, Masruq narrated that 'A'ishah said, "Whoever claims that Muhammad ﷺ has seen his Lord, will have uttered a lie against Allah, for Allah the Most Honored, says, لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.)" In the Sahih (Muslim) it is recorded that Abu Musa Al-Ash'ari narrated from the Prophet ﷺ, إِنَّ اللهَ لَا يَنَامُ وَلَا يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَنَامَ، يَخْفِضُ الْقِسْطَ وَيَرْفَعُهُ، يُرْفَعُ إِلَيْهِ عَمَلُ النَّهَارِ قَبْلَ اللَّيْلِ، وَعَمَلُ اللَّيْلِ قَبْلَ النَّهَارِ، حِجَابُهُ النُّورُ - أَوِ النَّارُ - لَوْ كَشَفَهُ لَأَحْرَقَتْ سَبُحَاتُ وَجْهِهِ مَا انْتَهَى إِلَيْهِ بَصَرُهُ مِنْ خَلْقِهِ (Verily, Allah does not sleep and it does not befit His majesty that He should sleep. He lowers the scale (of everything) and raises it. The deeds of the day are ascended to Him before the night, and the deeds of the night before the day. His Veil is the Light – or Fire – and if He removes it (the veil), the Light of His Face will burn every created thing that His sight reaches.) In the previous [revealed] Books there is this statement, "When Musa requested to see Him, Allah said to Musa: 'O Musa! Verily, no living thing sees Me, but it dies and no dried things sees me, but it rolls up.'" Allah said, فَلَمَّا تَجَلَّىٰ رَبُّهُ لِلْجَبَلِ جَعَلَهُ دَكًّا وَخَرَّ مُوسَىٰ صَعِقًا فَلَمَّا أَفَاقَ قَالَ سُبْحَانَكَ تُبْتُ إِلَيْكَ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِينَ (So when his Lord appeared to the mountain, He made it collapse to dust, and Musa fell down unconscious. Then when he recovered his senses he said: "Glory be to You, I turn to You in repentance and I am the first of the believers.")[7:143]. These Ayat, Hadiths and statements do not negate the fact that Allah will be seen on the Day of Resurrection by His believing servants, in the manner that He decides, all the while preserving His might and grace as they are. The Mother of the Faithful, 'A'ishah, used to affirm that Allah will be seen in the Hereafter, but denied that it could occur in this life, mentioning this Ayah as evidence, لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) Her denial was a denial of the ability to encompass Him, meaning to perfectly see His grace and magnificance as He is, for that is not possible for any human, angel or anything created. Allah's statement, وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (but His grasp is over all vision.) means, He encompasses all vision and He has full knowledge of them, for He created them all. In another Ayah, Allah said; أَلَا يَعْلَمُ مَنْ خَلَقَ وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (Should not He Who has created know And He is the Most Subtle, Well Acquainted (with all things).)[67:14] It is also possible that 'all vision' refers to those who have the vision. As-Suddi said that Allah's statement, لَّا تُدْرِكُهُ الْأَبْصَارُ وَهُوَ يُدْرِكُ الْأَبْصَارَ (No vision can grasp Him, but His grasp is over all vision.) means, "Nothing sees Him (in this life), but He sees all creation." Abu Al-'Aliyah said that Allah's statement, وَهُوَ اللَّطِيفُ الْخَبِيرُ (He is the Most Subtle, Well-Acquainted (with all things).) means, "He is the Most Subtle, bringing forth all things, Well-Acquainted with their position and place." Allah knows best. In another Ayah, Allah mentions Luqman's advice to his son, يَا بُنَيَّ إِنَّهَا إِن تَكُ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ فَتَكُن فِي صَخْرَةٍ أَوْ فِي السَّمَاوَاتِ أَوْ فِي الْأَرْضِ يَأْتِ بِهَا اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ لَطِيفٌ خَبِيرٌ (O my son! If it be (anything) equal to the weight of grain of mustard seed, and though it be in a rock, or in the heavens or in the earth, Allah will bring it forth. Verily, Allah is Most Subtle, Well Acquainted)[31:16]
Français

Mokhtasar Français

Ô gens, Seul votre Seigneur possède ces qualités. Vous n'avez pas d'autre seigneur que Lui, ni de divinité méritant d'être adorée autre que Lui et Il est Celui qui fit exister toute chose. Adorez-Le donc Seul car Il est Celui qui mérite d'être adoré et est le Protecteur de toute chose.
← Back to surah 📖 Read & Study Words