Tafsir — Al-Baqarah 57

← Back to Al-Baqarah
Al-Baqarah · Ayah 57 · Al-Baqarah
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْغَمَامَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْكُمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۖ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
"Who are certain that they will meet their Lord and that they will return to Him." — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
And seek help in patience and As-Salat (the prayer) and truly, it is extremely heavy and hard except for Al-Khashi'in.) (46 (They are those) who are certain that they are going to meet their Lord, and that unto Him they are going to return (45) The Support that comes with Patience and Prayer Allah commanded His servants to use patience and prayer to acquire the good of this life and the Hereafter. Muqatil bin Hayan said that this Ayah means, "Utilize patience and the obligatory prayer in seeking the Hereafter. As for patience (here), they say that it means fasting." There are similar texts reported from Mujahid. Al-Qurtubi and other scholars commented, "This is why Ramadan is called the month of patience," as is mentioned in the Hadith literature. It was also said that 'patience' in the Ayah means, refraining from evil, and this is why 'patience' was mentioned along with practicing acts of worship, especially and foremost, the prayer. Also, Ibn Abi Hatim narrated that 'Umar bin Al-Khattab said, "There are two types of patience: good patience when the disaster strikes, and a better patience while avoiding the prohibitions of Allah." Ibn Abi Hatim said that Al-Hasan Al-Basri was reported to have said similarly. Allah then said, وَالصَّلَاةِ (And As-Salah (the prayer).) The prayer is one of the best means of assistance for firmly adhering to Allah's orders, just as Allah said; اتْلُ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِنَ الْكِتَابِ وَأَقِمِ الصَّلَاةَ ۖ إِنَّ الصَّلَاةَ تَنْهَىٰ عَنِ الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ ۗ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ (Recite (O Muhammad ﷺ) what has been revealed to you of the Book (the Qur'an), and perform As-Salah. Verily, As-Salah (the prayer) prevents from Al-Fahsha' (i.e. great sins of every kind), and Al-Munkar and the remembrance of (praising) of (you by) Allah is greater indeed)(29:45). The personal pronoun in the Ayah, وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ (And truly, it is extremely heavy and hard) refers to prayer, as Mujahid is reported to have said, and it was also the choice of Ibn Jarir. It is possible that the pronoun might be referring to the advice - to observe patience and the prayer - mentioned in the same Ayah. Similarly, Allah said about Qarun (Korah), وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ (But those who had been given (religious) knowledge said: "Woe to you! The reward of Allah (in the Hereafter) is better for those who believe and do righteous good deeds, and this, none shall attain except As-Sabirun (the patient).")(28:80). Also, Allah said, وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ - وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ (The good deed and the evil deed cannot be equal. Repel (the evil) with one which is better then verily he, between whom and you there was enmity, (will become) as though he was a close friend. But none is granted it (the above quality) except those who are patient ـ and none is granted it except the owner of the great portion (of happiness in the Hereafter and) in this world.)(41:34-35) meaning, this advice is only implemented by those who are patient and the fortunate. In any case, Allah's statement here means, prayer is 'heavy and burdensome', إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ (except for Al-Khashi'in.) Ibn Abi Talhah reported that Ibn 'Abbas commented on this Ayah, "They (Al-Khashi'in) are those who believe in what Allah has revealed." Allah's statement, الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (They are those who are certain that they are going to meet their Lord, and that unto Him they are going to return.) continues the subject that was started in the previous Ayah. Therefore, the prayer, or the advice to observe it is heavy, إِلَّا عَلَى الْخَاشِعِينَ - الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ (except for Al-Khashi'in. (They are those) who are certain (Yazunnuna) that they are going to meet their Lord,) meaning, they know that they will be gathered and face their Lord on the Day of Resurrection, وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ (and that unto Him they are going to return.) meaning, their affairs are all subject to His will and He justly decides what He wills. Since they are certain that they will be returned to Allah and be reckoned, it is easy for them to perform the acts of obedience and refrain from the prohibitions. Ibn Jarir commented on Allah's statement; يَظُنُّونَ أَنَّهُم مُّلَاقُو رَبِّهِمْ (Yazunnuna that they are going to meet their Lord) Ibn Jarir said; "The Arabs call certainty as well as doubt, Zann. There are similar instances in the Arabic language where a subject as well as its opposite share the same name. For instance, Allah said, وَرَأَى الْمُجْرِمُونَ النَّارَ فَظَنُّوا أَنَّهُم مُّوَاقِعُوهَا (And the Mujrimun (criminals, polytheists, sinners), shall see the Fire and Zannu (apprehend) that they have to fall therein)"(18:53). It is recorded in the Sahih that on the Day of Resurrection, Allah will say to a servant, "Have I not allowed you to marry, honored you, made the horses and camels subservient to you and allowed you to become a chief and a master?" He will say, "Yes." Allah will say, "Did you have Zann (think) that you will meet Me?" He will say, "No." Allah will say, "This Day, I will forget you, just as you forgot Me." If Allah wills, we will further elaborate on this subject when we explain Allah's statement, نَسُواْ اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ (They have forgotten Allah, so He has forgotten them)(9:67).
اردو

ابن کثیر اردو

صبر کا مفہوم اس آیت میں حکم فرمایا جاتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو، فرائض بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے اور اسی لئے رمضان کا صبر کا مہینہ کہا گیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں روزہ آدھا صبر ہے صبر سے مراد گناہوں سے رک جانا بھی ہے۔ اس آیت میں اگر صبر سے یہ مراد لی جائے تو برائیوں سے رکنا اور نیکیاں کرنا دونوں کا بیان ہوگیا، نیکیوں میں سب سے اعلیٰ چیز نماز ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں مصیبت کے وقت صبر اور گناہوں کے ارتکاب سے صبر اور یہ صبر پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں انسان کا ہر چیز کا اللہ کی طرف سے ہونے کا اقرار کرنا۔ ثواب کا طلب کرنا اللہ کے پاس مصیبتوں کے اجر کا ذخیرہ سمجھنا یہ صبر ہے اللہ تعالیٰ کی مرضی کے کام پر صبر کرو اور اسے بھی اللہ تعالیٰ کی اطاعت سمجھو نیکیوں کے کاموں پر نماز سے بڑی مدد ملتی ہے خود قرآن میں ہے آیت (الصَّلٰوةَ ۭاِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَاۗءِ وَالْمُنْكَرِ ۭ وَلَذِكْرُ اللّٰهِ اَكْبَرُ) 29۔ العنکبوت :45)۔ نماز کو قائم رکھ یہ تمام برائیوں اور بدیوں سے روکنے والی ہے اور یقینا اللہ کا ذکر بہت بڑی چیز ہے۔ حضرت حذیفہ فرماتے ہیں جب رسول اللہ ﷺ کو کوئی کام مشکل اور غم میں ڈال دیتا تو آپ نماز پڑھا کرتے فوراً نماز میں لگ جاتے۔ چناچہ جنگ خندق کے موقع پر رات کے وقت جب حضرت حذیفہ خدمت نبوی میں حاضر ہوتے ہیں، تو آپ ﷺ کو نماز میں پاتے ہیں۔ حضرت علی فرماتے ہیں کہ بدر کی لڑائی کی رات میں نے دیکھا کہ ہم سب سو گئے تھے مگر اللہ کے رسول (اللھم صلی وسلم علیہ) ساری رات نماز میں مشغول رہے صبح تک نماز میں اور دعا میں لگے رہے۔ ابن جریر میں ہے نبی ﷺ نے حضرت ابوہریرہ ؓ کو دیکھا کہ بھوک کے مارے پیٹ کے درد سے بیتاب ہو رہے ہیں آپ نے ان سے (فارسی زبان میں) دریافت فرمایا کہ درد شکم داری ؟ کیا تمہارے پیٹ میں درد ہے ؟ انہوں نے کہا ہاں آپ نے فرمایا اٹھو نماز شروع کردو اس میں شفا ہے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کو سفر میں اپنے بھائی حضرت قثم کے انتقال کی خبر ملتی ہے تو آپ آیت (انا للہ) الخ پڑھ کر راستہ سے ایک طرف ہٹ کر اونٹ بٹھا کر نماز شروع کردیتے ہیں اور بہت لمبی نماز ادا کرتے ہیں پھر اپنی سواری کی طرف جاتے ہیں اور اس آیت کو پڑھتے ہیں غرض ان دونوں چیزوں صبرو صلوٰت سے اللہ کی رحمت میسر آتی ہے ان کی ضمیر کا مرجع بعض لوگوں نے تو صلوٰۃ یعنی نماز کو کہا ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ مدلول کلام یعنی وصیت اس کا مرجع ہے جیسے قارون کے قصہ میں ولا یلقاھا کی ضمیر اور برائی کے بدلے بھلائی کرنے کے حکم میں وما یلقھا کی ضمیر۔ مطلب یہ ہے کہ صبرو صلوٰۃ ہر شخص کے بس کی چیز نہیں یہ حصہ اللہ کا خوف رکھنے والی جماعت کا ہے یعنی قرآن کے ماننے والے سچے مومن کانپنے والے متواضع اطاعت کی طرف جھکنے والے وعدے وعید کو سچا ماننے والے ہیں اس وصف سے موصوف ہوتے ہیں جیسے حدیث میں ایک سائل کے سوال پر حضور ﷺ نے فرمایا تھا یہ بری چیز ہے لیکن جس پر اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہو اس پر آسان ہے، ابن جریرنے اس آیت کے معنی کرتے ہوئے اسے بھی یہودیوں سے ہی خطاب قرار دیا ہے لیکن ظاہر بات یہ ہے کہ گو یہ بیان انہی کے بارے میں لیکن حکم کے اعتبار سے عام ہے۔ واللہ اعلم۔ آگے چل کر خاشعین کی صفت ہے اس میں ظن معنی میں یقین کے ہے گو ظن شک کے معنی میں بھی آتا ہے جیسے کہ سدفہ اتدھیرے کے معنی میں بھی آتا ہے اور روشنی کے معنی میں بھی اور صارخ کا لفظ بھی فریاد رس اور فریاد کن دونوں کے لئے بولا جاتا ہے اور اسی طرح کے بہت سے نام ہیں جو ایسی دو مختلف چیزوں پر بولے جاتے ہیں۔ ظن یقین کے معنی میں عرب شعراء کے شعروں میں بھی آیا ہے خود قرآن کریم میں آیت (وَرَاَ الْمُجْرِمُوْنَ النَّارَ فَظَنُّوْٓا اَنَّهُمْ مُّوَاقِعُوْهَا) 18۔ الکہف :53) یعنی گنہگار جہنم کو دیکھ کر یقین کرلیں گے کہ اب ہم اس میں جھونک دئیے جائیں گے یہاں بھی ظن یقین کے معنی میں ہے بلکہ حضرت مجاہد فرماتے ہیں قرآن میں ایسی جگہ ظن کا لفظ یقین اور علم کے معنی میں ہے ابو العالیہ بھی یہاں ظن کے معنی یقین کرتے ہیں۔ حضرت مجاہد، سدی ربیع بن انس اور قتادہ کا بھی یہی قول ہے۔ ابن جریج بھی یہی فرماتے ہیں۔ قرآن میں دوسری جگہ ہے آیت (اِنِّىْ ظَنَنْتُ اَنِّىْ مُلٰقٍ حِسَابِيَهْ) 69۔ الحاقہ :20) یعنی مجھے یقین تھا کہ مجھے حساب سے دو چار ہونا ہے ایک صحیح حدیث میں ہے کہ قیامت کے دن ایک گنہگار بندے سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا کیا میں نے تجھے بیوی بچے نہیں دئیے تھے ؟ کیا تجھ پر طرح طرح کے اکرام نہیں کئے تھے ؟ کیا تیرے لئے گھوڑے اور اونٹ مسخر نہیں کئے تھے ؟ کیا تجھے راحت و آرام کھانا پینا میں نے نہیں دیا تھا ؟ یہ کہے گا ہاں پروردگار یہ سب کچھ دیا تھا۔ پھر کیا تیرا علم و یقین اس بات پر نہ تھا کہ تو مجھ سے ملنے والا ہے ؟ وہ کہے گا ہاں اللہ تعالیٰ اسے نہیں مانتا تھا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا بس تو جس طرح مجھے بھول گیا تھا آج میں بھی تجھے بھلا دوں گا اس حدیث میں بھی لفظ ظن کا ہے اور معنی میں یقین کے ہیں اس کی مزید تحقیق و تفصیل انشاء اللہ تعالیٰ آیت (نَسُوا اللّٰهَ فَاَنْسٰـىهُمْ اَنْفُسَهُمْ) 59۔ الحشر :19) کی تفسیر میں آگے آئے گی۔
← Back to surah Study this word