Tafsir — Muhammad 10

← Back to Muhammad
Muhammad · Ayah 10 · Muhammad
۞ أَفَلَمْ يَسِيرُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ فَيَنظُرُوا۟ كَيْفَ كَانَ عَـٰقِبَةُ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ ۚ دَمَّرَ ٱللَّهُ عَلَيْهِمْ ۖ وَلِلْكَـٰفِرِينَ أَمْثَـٰلُهَا
"Have they not traveled through the land and seen how was the end of those before them? Allah destroyed [everything] over them, and for the disbelievers is something comparable." — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
Do they not see that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation, is Able to give life to the dead Yes, He surely is Able to do all things (33)And on the Day when those who disbelieve will be exposed to the Fire (it will be said to them): "Is this not the truth?" They will say: "Yes, by our Lord!" He will say: "Then taste the torment, because you used to disbelieve! (34)Therefore be patient as did those of determination among the Messengers and be in no hurry for them. On the Day when they will see what they are promised, it will be as though they had not remained (in the world) except an hour in a day. (This is) a clear Message. But will any be destroyed except the defiantly rebellious people (35) Evidence for Life after Death Allah says, those who deny resurrection on Judgment Day, and doubt that the bodies will be raised on that Last Day – Do they not see, أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَلَمْ يَعْيَ بِخَلْقِهِنَّ (that Allah, Who created the heavens and the earth, and was not wearied by their creation,) meaning, the creation of the heavens and earth did not exhaust Him.' Rather, He commanded them: "Be," and they were, without any refusal or delay. They obeyed and responded to Him with submission and fear. Is He not then able to revive the dead? This is similar to what Allah said elsewhere, لَخَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ (Verily, the creation of the heavens and earth is greater than the creation of the people. But most people do not know.)(40:57) Allah responds to the above question by saying, بَلَىٰ إِنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (Yes, He surely is Able to do all things.) Then Allah says, as a threat and a warning to whoever disbelieves in Him, وَيَوْمَ يُعْرَضُ الَّذِينَ كَفَرُوا عَلَى النَّارِ أَلَيْسَ هَٰذَا بِالْحَقِّ ۖ (And on the Day when those who disbelieve will be exposed to the Fire (it will be said to them): "Is this not the truth?") meaning, it will be said to them, "Isn't this the truth Is this magic, or do you not see?" قَالُوا بَلَىٰ وَرَبِّنَا (They will say: "Yes, by our Lord!") meaning, they will have no choice but to confess. قَالَ فَذُوقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُونَ (He will say: "Then taste the torment, because you used to disbelieve!") Commanding the Prophet ﷺ to persevere Allah then commands His Messenger ﷺ to observe patience with those who rejected him among his people. He says, فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ (Therefore be patient as did those of determination among the Messengers.) meaning, as they were patient with their people's rejection of them. "Those of determination" among the Messengers are Nuh, Ibrahim, Musa, 'Isa and the last of all of the Prophets, Muhammad ﷺ. Allah has specifically mentioned their names in two Ayat: Surat Al-Ahzab (33:7) and Surat Ash-Shura (42:13). وَلَا تَسْتَعْجِلْ لَهُمْ (and be in no hurry for them.) which means, 'do not rush the punishment for them.' This is similar to Allah's saying: وَذَرْنِي وَالْمُكَذِّبِينَ أُولِي النَّعْمَةِ وَمَهِّلْهُمْ قَلِيلًا (And leave Me alone to deal with the rejectors, those who are in possession of good things of life. And give them respite for a little while.)(73:11) فَمَهِّلِ الْكَافِرِينَ أَمْهِلْهُمْ رُوَيْدًا (So allow time for the disbelievers, and leave them for a while.)(86:17) Then Allah says: كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَ مَا يُوعَدُونَ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ ۚ (On the Day when they will see that which they are promised, it will be as though they had not remained (in the world) except an hour in a day.) Which is similar to Allah's saying, كَأَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا عَشِيَّةً أَوْ ضُحَاهَا (On the Day they see it (the Hour), it will be as though they had not remained (in the world) except for a day's afternoon or its morning.)(79:46) and as He says, وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَنْ لَمْ يَلْبَثُوا إِلَّا سَاعَةً مِنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ (And on the Day when He shall gather them together, (it will be) as if they had not stayed but an hour of a day. They will recognize each other.)(10:45) Then Allah says, بَلَاغٌ ۚ (A clear message.) meaning, this Qur'an provides a clear concept. فَهَلْ يُهْلَكُ إِلَّا الْقَوْمُ الْفَاسِقُونَ (But will any be destroyed except the defiantly rebellious people?) Which means that Allah does not destroy anyone except those who choose the way of destruction. It is part of Allah's justice that He does not punish anyone except those who deserve the punishment – and Allah knows best. This concludes the explanation of Surat Al-Ahqaf. And all praise and blessings are due to Allah. Both success and protection from faults are by His help.
اردو

ابن کثیر اردو

اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتا ہے کہ کیا ان لوگوں نے جو مرنے کے بعد جینے کے منکر ہیں اور قیامت کے دن جسموں سمیت جی اٹھنے کو محال جانتے ہیں یہ نہیں دیکھا کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے کل آسمانوں اور تمام زمینوں کو پیدا کیا اور ان کی پیدائش نے اسے کچھ نہ تھکایا بلکہ صرف ہوجا کے کہنے سے ہی ہوگئیں کون تھا جو اس کے حکم کی خلاف ورزی کرتا یا مخالفت کرتا بلکہ حکم برداری سے راضی خوشی ڈرے دبتے سب موجود ہوگئے، کیا اتنی کامل قدرت و قوت والا مردوں کے زندہ کردینے کی سکت نہیں رکھتا ؟ چناچہ دوسری آیت میں ہے آیت (لَخَــلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ اَكْبَرُ مِنْ خَلْقِ النَّاسِ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ 57؀) 40۔ غافر :57) یعنی انسانوں کی پیدائش سے تو بہت بھاری اور مشکل اور بہت بڑی اہم پیدائش آسمان و زمین کی ہے لیکن اکثر لوگ بےسمجھ ہیں۔ جب زمین و آسمان کو اس نے پیدا کردیا تو انسان کا پیدا کردینا خواہ ابتدًا ہو خواہ دوبارہ ہو اس پر کیا مشکل ہے ؟ اسی لئے یہاں بھی فرمایا کہ ہاں وہ ہر شے پر قادر ہے اور انہی میں سے موت کے بعد زندہ کرتا ہے کہ اس پر بھی وہ صحیح طور پر قادر ہے پھر اللہ جل و علا کافروں کو دھمکاتا ہے کہ قیامت والے دن جہنم میں ڈالے جائیں گے اس سے پہلے جہنم کے کنارے پر انہیں کھڑا کر کے ایک مرتبہ پھر لاجواب اور بےحجت کیا جائے گا اور کہا جائے گا کیوں جی ہمارے وعدے اور یہ دوزخ کے عذاب اب تو صحیح نکلے یا اب بھی شک و شبہ اور انکار و تکذیب ہے ؟ یہ جادو تو نہیں تمہاری آنکھیں تو اندھی نہیں ہوگئیں ؟ جو دیکھ رہے ہو صحیح دیکھ رہے ہو یا درحقیقت صحیح نہیں ؟ اب سوائے اقرار کے کچھ نہ بن پڑے گا جواب دیں گے کہ ہاں ہاں سب حق ہے جو کہا گیا تھا وہی نکلا قسم اللہ کی اب ہمیں رتی برابر بھی شک نہیں اللہ فرمائے گا اب دو گھڑی پہلے کے کفر کا مزہ چکھو پھر اللہ تعالیٰ اپنے رسول کو تسلی دے رہا ہے کہ آپ کی قوم نے اگر آپ کو جھٹلایا آپ کی قدر نہ کی آپ کی مخالفت کی ایذاء رسانی کے درپے ہوئے تو یہ کوئی نئی بات تھوڑی ہی ہے ؟ اگلے اولوالعزم پیغمبروں کو یاد کرو کہ کیسی کیسی ایذائیں، مصیبتیں اور تکلیفیں برداشت کیں اور کن کن زبردست مخالفوں کی مخالفت کو صبر سے برداشت کیا ان رسولوں کے نام یہ ہیں نوح، ابراہیم، موسیٰ ، عیسیٰ ، اور خاتم الانبیاء اللھم صلی علیھم اجمعین۔ انبیاء کے بیان میں ان کے نام خصوصیت سے سورة احزاب اور سورة شوریٰ میں مذکور ہیں اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اولوالعزم رسول سے مراد سب پیغمبر ہوں تو (من الرسل) کا (من) بیان جنس کے لئے ہوگا واللہ اعلم، ابن ابی حاتم میں ہے رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے پھر روزہ رکھا پھر بھوکے ہی رہے اور پھر روزہ رکھا پھر فرمانے لگے عائشہ محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ کے لائق تو دنیا ہے ہی نہیں۔ عائشہ دنیا کی بلاؤں اور مصیبتوں پر صبر کرنے اور دنیا کی خواہش کی چیزوں سے اپنے تئیں بچائے رکھنے کا حکم اولوالعزم رسول کئے گئے اور وہی تکلیف مجھے بھی دی گئی ہے جو ان عالی ہمت رسولوں کو دی گئی تھی۔ قسم اللہ کی میں بھی انہی کی طرح اپنی طاقت بھر صبر و سہار سے ہی کام لوں گا اللہ کی قوت کے بھروسے سے پر یہ بات زبان سے نکال رہا ہوں۔ پھر فرمایا اے نبی ﷺ یہ لوگ عذابوں میں مبتلا کئے جائیں اس کی جلدی نہ کرو۔ جیسے اور آیت میں ہے آیت (فَذَرْنِيْ وَمَنْ يُّكَذِّبُ بِهٰذَا الْحَدِيْثِ ۭ سَنَسْتَدْرِجُهُمْ مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُوْنَ 44؀ۙ) 68۔ القلم :44) ، یعنی کافروں کو مہلت دو ، انہیں تھوڑی دیر چھوڑ دو پھر فرماتا ہے جس دن یہ ان چیزوں کا مشاہدہ کرلیں گے جن کے وعدے آج دئیے جاتے ہیں اس دن انہیں معلوم ہونے لگے گا کہ دنیا میں صرف دن کا کچھ ہی حصہ گذارا ہے اور آیت میں ہے آیت (كَاَنَّهُمْ يَوْمَ يَرَوْنَهَا لَمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا عَشِـيَّةً اَوْ ضُحٰىهَا 46؀) 79۔ النازعات :46) یعنی جس دن یہ قیامت کو دیکھ لیں گے تو ایسا معلوم ہوگا کہ گویا دنیا میں صرف ایک صبح یا ایک شام ہی گذاری تھی (وَيَوْمَ يَحْشُرُھُمْ كَاَنْ لَّمْ يَلْبَثُوْٓا اِلَّا سَاعَةً مِّنَ النَّهَارِ يَتَعَارَفُوْنَ بَيْنَھُمْ ۭ قَدْ خَسِرَ الَّذِيْنَ كَذَّبُوْا بِلِقَاۗءِ اللّٰهِ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِيْنَ 45؀) 10۔ یونس :45) یعنی جس دن ہم انہیں جمع کریں گے تو یہ محسوس کرنے لگیں گے کہ گویا دن کی ایک ساعت ہی دنیا میں رہے تھے پھر فرمایا پہنچا دینا ہے۔ اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں ایک تو یہ کہ دنیا کا ٹھہرنا صرف ہماری طرف سے ہماری باتوں کے پہنچا دینے کے لئے تھا دوسرے یہ کہ یہ قرآن صرف پہنچا دینے کیلئے ہے یہ کھلی تبلیغ ہے پھر فرماتا ہے سوائے فاسقوں کے اور کسی کو ہلاکی نہیں۔ یہ اللہ جل و علا کا عدل ہے کہ جو خود ہلاک ہوا اسے ہی وہ ہلاک کرتا ہے عذاب اسی کو ہوتے ہیں جو خود اپنے ہاتھوں اپنے لئے عذاب مہیا کرے اور اپنے آپ کو مستحق عذاب کر دے واللہ اعلم۔
← Back to surah 📖 Read & Study Words