Tafsir — Al-A'raf 6

← Back to Al-A'raf
Al-A'raf · Ayah 6 · Al-Araf
فَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلَّذِينَ أُرْسِلَ إِلَيْهِمْ وَلَنَسْـَٔلَنَّ ٱلْمُرْسَلِينَ
"Whoever comes [on the Day of Judgement] with a good deed will have ten times the like thereof [to his credit], and whoever comes with an evil deed will not be recompensed except the like thereof; and they will not be wronged. [1]" — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit, and whoever brings an evil deed shall have only the recompense of the like thereof, and they will not be wronged (160) The Good Deed is Multiplied Tenfold, While the Sin is Recompensed with the Same This Ayah explains the general Ayah; مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ خَيْرٌ مِّنْهَا (Whoever comes with good, then he will receive better than that.)[28:84] There are several Hadiths that are in agreement with the apparent wording of this honorable Ayah. Imam Ahmad bin Hanbal recorded that Ibn 'Abbas said that the Messenger of Allah ﷺ said about his Lord, إِنَّ رَبَّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ رَحِيمٌ مَنْ هَمَّ بِحَسَنَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ عَشْرًا إِلَى سَبْعِمِائَةٍ إِلَى أَضْعَافٍ كَثِيرَةٍ. وَمَنْ هَمَّ بِسَيِّئَةٍ فَلَمْ يَعْمَلْهَا كُتِبَتْ لَهُ حَسَنَةً فَإِنْ عَمِلَهَا كُتِبَتْ لَهُ وَاحِدَةً أَوْ يَمْحُوهَا اللهُ عَزَّ وَجَلَّ وَلَا يَهْلِكُ عَلَى اللهِ إِلَّا هَالِكٌ (Your Lord is Most Merciful. Whoever intends to perform a good deed and does not do it, it will be written for him as a good deed. If he performs it, it will be written for him as ten deeds, to seven hundred, to multifold. Whoever intends to commit an evil deed, but does not do it, it will be written for him as a good deed. If he commits it, it will be written for him as a sin, unless Allah erases it. Only those who deserve destruction will be destroyed by Allah.) Al-Bukhari, Muslim and An-Nasa'i also recorded this Hadith. Ahmad also recorded that Abu Dharr said that the Messenger of Allah ﷺ said, يَقُولُ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: مَنْ عَمِلَ حَسَنَةً فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا وَأَزِيدُ وَمَنْ عَمِلَ سَيِّئَةً فَجَزَاؤُهَا مِثْلُهَا أَوْ أَغْفِرُ وَمَنْ عَمِلَ قُرَابَ الْأَرْضِ خَطِيئَةً ثُمَّ لَقِيَنِي لَا يُشْرِكُ بِي شَيْئًا جَعَلْتُ لَهُ مِثْلَهَا مَغْفِرَةً، وَمَنِ اقْتَرَبَ إِليَّ شِبْرًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ ذِرَاعًا وَمَنِ اقْتَرَبَ إِلَيَّ ذِرَاعًا اقْتَرَبْتُ إِلَيْهِ بَاعًا وَمَنْ أَتَانِي يَمْشِي أَتَيْتُهُ هَرْوَلَةً (Allah says, 'Whoever performs a good deed, will have tenfold for it and more. Whoever commits a sin, then his recompense will be the same, unless I forgive. Whoever commits the earth's fill of sins and then meets Me while associating none with Me, I will give him its fill of forgiveness. Whoever draws closer to Me by a hand's span, I will draw closer to him by a forearm's length. Whoever draws closer to Me by a forearm's length, I will draw closer to him by an arm's length. And whoever comes to Me walking, I will come to him running.') Muslim also collected this Hadith. Know that there are three types of people who refrain from committing a sin that they intended. There are those who refrain from committing the sin because they fear Allah, and thus will have written for them a good deed as a reward. This type contains both a good intention and a good deed. In some narrations of the Sahih, Allah says about this type, "He has left the sin for My sake." Another type does not commit the sin because of forgetfulness or being busy attending to other affairs. This type of person will neither earn a sin, nor a reward. The reason being that, this person did not intend to do good, nor commit evil. Some people abandon the sin because they were unable to commit it or due to laziness, after trying to commit it and seeking the means that help commit it. This person is just like the person who commits the sin. There is an authentic Hadith that states, إِذَا الْتَقَى الْمُسْلِمَانِ بِسَيْفَيْهِمَا فَالْقَاتِلُ وَالْمَقْتُولُ فِي النَّارِ (When two Muslims meet with their swords, then the killer and the killed will be in the Fire.) They said, "O Allah's Messenger! We know about the killer, so what about the killed?" He said, إِنَّهُ كَانَ حَرِيصًا عَلَى قَتْلِ صَاحِبِهِ (He was eager to kill his companion.) Al-Hafiz Abu Al-Qasim At-Tabarani said that Abu Malik Al-Ash'ari said that the Messenger of Allah ﷺ said, الْجُمُعَةُ كَفَّارَةٌ لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي تَلِيهَا وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَذَلِكَ لأَنَّ اللهَ تَعَالَى قَالَ: مَن جَآءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (Friday (prayer) to the next Friday (preayer), plus three more days, erase whatever was committed (of sins) between them. This is because Allah says: Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit) Abu Dharr narrated that the Messenger of Allah ﷺ said, مَنْ صَامَ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ فَقَدْ صَامَ الدَّهْرَ كُلَّهُ (Whoever fasts three days every month, will have fasted all the time.) Ahmad, An-Nasa'i, and Ibn Majah recorded this Hadith, and this is Ahmad's wording. At-Tirmidhi also recorded it with this addition; فأنزل الله تصديق ذلك في كتابه (So Allah sent down affirmation of this statement in His Book,) مَن جَاءَ بِالْحَسَنَةِ فَلَهُ عَشْرُ أَمْثَالِهَا (Whoever brings a good deed shall have ten times the like thereof to his credit,) اليوم بعشرة أيام (Therefore, a day earns ten days.) At-Tirmidhi said; "This Hadith is Hasan". There are many other Hadiths and statements on this subject, but what we mentioned should be sufficient, Allah willing, and our trust is in Him.
اردو

ابن کثیر اردو

نیکی کا دس گنا ثواب اور غلطی کی سزا برابر برابر ایک اور آیت میں مجملاً یہ آیا ہے کہ (فلہ خیر منھا) جو نیکی لائے اس کیلئے اس سے بہتر بدلہ ہے۔ اسی آیت کے مطابق بہت سی حدیثیں بھی وارد ہوتی ہیں ایک میں ہے تمہارا رب عزوجل بہت بڑا رحیم ہے نیکی کے صرف قصد پر نیکی کے کرنے کا ثواب عطا فرما دیتا ہے اور ایک نیکی کے کرنے پر دس سے ساٹھ تک بڑھا دیتا ہے اور بھی بہت زیادہ اور بہت زیادہ اور اگر برائی کا قصد ہوا پھر نہ کرسکا تو بھی نیکی ملتی ہے اور اگر اس برائی کو کر گذرا تو ایک برائی ہی لکھی جاتی ہے اور بہت ممکن ہے کہ اللہ معاف ہی فرما دے اور بالکل ہی مٹا دے سچ تو یہ ہے کہ ہلاکت والے ہی اللہ کے ہاں ہلاک ہوتے ہیں (بخاری مسلم نسائی وغیرہ) ایک حدیث قدسی میں ہے نیکی کرنے والے کو دس گنا ثواب ہے اور پھر بھی میں زیادہ کردیتا ہوں اور برائی کرنے والے کو اکہرا عذاب ہے اور میں معاف بھی کردیتا ہوں زمین بھر تک جو شخص خطائیں لے آئے اگر اس نے میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا تو میں اتنی ہی رحمت سے اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں جو میری طرف بالشت بھر آئے میں اس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو ہاتھ بھر آئے میں اس کی طرف دو ہاتھ برھتا ہوں اور جو میری طرف چلتا ہوا آئے میں اس کی طرف دوڑتا ہوا جاتا ہوں (مسلم مسند وغیرہ) اس سے پہلے گذری ہوئی حدیث کی طرح ایک اور حدیث بھی ہے اس میں فرمایا ہے کہ برائی کا اردہ کر کے پھر اسے چھوڑ دینے والے کو بھی نیکی ملتی ہے اس سے مراد وہ شخص ہے جو اللہ کے ڈر سے چھوڑ دے چناچہ بعض روایات میں تشریح آ بھی چکی ہے۔ دوسری صورت چھوڑ دینے کی یہ ہے کہ اسے یاد ہی نہ آئے بھول بسر جائے تو اسے نہ ثواب ہے نہ عذاب کیونکہ اس نے اللہ سے ڈر کر نیک نیتی سے اسے ترک نہیں کیا اور اگر بدنیتی سے اس نے کوشش بھی کی اسے پوری طرح کرنا بھی چاہا لیکن عاجز ہوگیا کر نہ سکا موقعہ ہی نہ ملا اسباب ہی نہ بنے تھک کر بیٹھ گیا تو ایسے شخص کو اس برائی کے کرنے کے برابر ہی گناہ ہوتا ہے چناچہ حدیث میں ہے جب دو مسلمان تلواریں لے کر ایک دوسرے سے جنگ کریں تو جو مار ڈالے اور جو مار ڈالا جائے دونوں جہنمی ہیں لوگوں نے کہا مار ڈالنے والا تو خیر لیکن جو مارا گیا وہ جہنم میں کیوں جائے گا ؟ آپ نے فرمایا اس لئے کہ وہ بھی دوسرے کو مار ڈالنے کا آرزو مند تھا اور حدیث میں ہے حضور فرماتے ہیں نیکی کے محض ارادے پر نیکی لکھ لی جاتی ہے اور عمل میں لانے کے بعد دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں برائی کے محض ارادے کو لکھا نہیں جاتا اگر عمل کرلے تو ایک ہی گناہ لکھا جاتا ہے اور اگر چھوڑ دے تو نیکی لکھی جاتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس نے گناہ کے کام کو میرے خوف سے ترک کردیا۔ حضور فرماتے ہیں لوگوں کی چار قسمیں ہیں اور اعمال کی چھ قسمیں ہیں۔ بعض لوگ تو وہ ہیں جنہیں دنیا اور آخرت میں وسعت اور کشادگی دی جاتی ہے بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں کشادگی ہوتی ہے اور آخرت میں تنگی بعض وہ ہیں جن پر دنیا میں تنگی رہتی ہے اور آخرت میں انہیں کشادگی ملے گی۔ بعض وہ ہیں جو دونوں جہان میں بدبخت رہتے ہیں یہاں بھی وہاں بھی بےآبرو، اعمال کی چھ قسمیں یہ ہیں دو قسمیں تو ثواب واجب کردینے والی ہیں ایک برابر کا، ایک دس گنا اور ایک سات سو گنا۔ واجب کردینے والی دو چیزیں وہ ہیں جو شخص اسلام و ایمان پر مرے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کیا ہو اس کیلئے جنت واجب ہے اور جو کفر پر مرے اس کیلئے جہنم واجب ہے اور جو نیکی کا ارادہ کرے گو کہ نہ ہو اسے ایک نیکی ملتی ہے اس لئے کہ اللہ جانتا ہے کہ اس کے دل نے اسے سمجھا اس کی حرص کی اور جو شخص برائی کا ارادہ کرے اس کے ذمہ گناہ نہیں لکھا جاتا اور جو کر گذرے اسے ایک ہی گناہ ہوتا ہے اور وہ بڑھتا نہیں ہے اور جو نیکی کا کام کرے اسے دس نیکیاں ملتی ہیں اور جو راہ اللہ عزوجل میں خرچ کرے اسے سات سو گنا ملتا ہے (ترمذی) فرمان ہے کہ جمعہ میں آنے والے لوگ تین طرح کے ہیں ایک وہ جو وہاں لغو کرتا ہے اس کے حصے میں تو وہی لغو ہے، ایک دعا کرتا ہے اسے اگر اللہ چاہے دے چاہے نہ دے۔ تیسرا وہ شخص ہے جو سکوت اور خاموشی کے ساتھ خطبے میں بیٹھتا ہے کسی مسلمان کی گردن پھلانگ کر مسجد میں آگے نہیں بڑھتا نہ کسی کو ایذاء دیتا ہے اس کا جمعہ اگلے جمعہ تک گناہوں کا کفارہ ہوجاتا ہے بلکہ اور تین دن تک کے گناہوں کا بھی اس لئے کہ وعدہ الٰہی میں ہے آیت (مَنْ جَاۗءَ بالْحَسَنَةِ فَلَهٗ عَشْرُ اَمْثَالِهَا ۚ وَمَنْ جَاۗءَ بالسَّيِّئَةِ فَلَا يُجْزٰٓى اِلَّا مِثْلَهَا وَهُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ) 6۔ الانعام :160) جو نیکی کرے اسے دس گنا اجر ملتا ہے۔ طبرانی میں ہے جمعہ جمعہ تک بلکہ اور تین دن تک کفارہ ہے اس لئے کہ اللہ کا فرمان ہے نیکی کرنے والے کو اس جیسی دس نیکیوں کا ثواب ملتا ہے۔ فرماتے ہیں جو شخص ہر مہینے میں تین روزے رکھے اسے سال بھر کے روزوں کا یعنی تمام عمر سارا زمانہ روزے سے رہنے کا ثواب دس روزوں کا ملتا ہے (ترمذی) ابن مسعود ؓ اور سلف کی ایک جماعت سے منقول ہے کہ اس آیت میں حسنہ سے مراد کلمہ توحید ہے اور سیئہ سے مراد شرک ہے، ایک مرفوع حدیث میں بھی یہ ہے لیکن اس کی کوئی صحیح سند میری نظر سے نہیں گذری۔ اس آیت کی تفسیر میں اور بھی بہت سی حدیثیں اور آثار ہیں لیکن انشاء اللہ یہ ہی کافی ہیں۔
Српски

Muhtasar Srpski

Сваки верник који на Судњем дану дође са добрим делима - Аллах ће му их удесетостручити, а ко дође са лошим делима - биће кажњем за то дело сходно његовој тежини али без умногостручавања. Њима на Судњем дану неће бити учињена неправда ни кроз умањивање заслужене награде ни кроз увећавање заслужене казне.
← Back to surah Study this word