Tafsir — An-Nisa 155

← Back to An-Nisa
An-Nisa · Ayah 155 · An-Nisa
فَبِمَا نَقْضِهِم مِّيثَـٰقَهُمْ وَكُفْرِهِم بِـَٔايَـٰتِ ٱللَّهِ وَقَتْلِهِمُ ٱلْأَنۢبِيَآءَ بِغَيْرِ حَقٍّ وَقَوْلِهِمْ قُلُوبُنَا غُلْفٌۢ ۚ بَلْ طَبَعَ ٱللَّهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُونَ إِلَّا قَلِيلًا
"O you who have believed, do not take the disbelievers as allies instead of the believers. Do you wish to give Allāh against yourselves a clear case?" — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
O you who believe! Do not take disbelievers as friends instead of believers. Do you wish to offer Allah a manifest Sultan against yourselves (144)Verily, the hyprocrites will be in the lowest depth (grade) of the Fire; no helper will you find for them (145)Except those who repent, do righteous good deeds, depend on Allah, and purify their religion for Allah, then they will be with the believers. And Allah will grant the believers a great reward (146)Why should Allah punish you if you have thanked (Him) and have believed in Him. And Allah is Ever All-Appreciative (of good), All-Knowing (147) The Prohibition of Wilayah with the Disbelievers Allah forbids His believing servants from taking the disbelievers as friends instead of the believers. This includes being friends and associates of the disbelievers, advising them, being intimate with them and exposing the secrets of the believers to them. In another Ayah, Allah said, لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ (Let not the believers take the disbelievers as friends instead of the believers, and whoever does that, will never be helped by Allah in any way, except if you indeed fear a danger from them. And Allah warns you against Himself). meaning, He warns you against His punishment if you fall into what He has prohibited. This is why Allah said here, أَتُرِيدُونَ أَن تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُّبِينًا (Do you wish to offer Allah a manifest Sultan against yourselves?) meaning, proof against you that warrants receiving His torment. Ibn Abi Hatim narrated that Ibn 'Abbas commented; سُلْطَانًا مُّبِينًا (manifest Sultan), "The word Sultan in the Qur'an means proof. " There is an authentic chain of narration for this statement, which is also the saying of Mujahid, 'Ikrimah, Sa'id bin Jubayr, Muhammad bin Ka'b Al-Qurazi, Ad-Dahhak, As-Suddi and An-Nadr bin 'Arabi. The Hypocrites and the Friends of Disbelievers are in the Lowest Depth of the Fire, Unless they Repent Allah then states that, إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (Verily, the hypocrites will be in the lowest depths of the Fire;) on the Day of Resurrection due to their tremendous Kufr. Al-Walibi ['Ali bin Abi Talhah] said that Ibn 'Abbas said, فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (in the lowest depths (grade) of the Fire;) means, in the bottom of the Fire. Other scholars said that the Fire has ever lower depths just as Paradise had ever higher grades. Ibn Jarir recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said that, إِنَّ الْمُنَافِقِينَ فِي الدَّرْكِ الْأَسْفَلِ مِنَ النَّارِ (Verily, the hypocrites will be in the lowest depths (grade) of the Fire), Inside coffins of Fire that surround them, for they are closed and sealed in them. Ibn Abi Hatim recorded that when Ibn Mas'ud was asked about the hypocrites, he said, "They will be placed in coffins made of fire and they will be closed in them in the lowest depth of the Fire." وَلَن تَجِدَ لَهُمْ نَصِيرًا (no helper will you find for them.) to save them from their misery and painful torment. Allah then states that whoever among the hypocrites repents in this life, Allah will accept his repentance and sorrow, if his repentance were sincere and he then follows it by performing righteous deeds, all the while depending on his Lord. Allah said, إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا وَأَصْلَحُوا وَاعْتَصَمُوا بِاللَّهِ وَأَخْلَصُوا دِينَهُمْ لِلَّهِ (Except those who repent (from hypocrisy), do righteous good deeds, depend on Allah, and purify their religion for Allah) replacing showing off with sincerity, so that their good deeds will benefit them, even if they were minute. فَأُولَٰئِكَ مَعَ الْمُؤْمِنِينَ (then they will be with the believers.) on the Day of Resurrection, وَسَوْفَ يُؤْتِ اللَّهُ الْمُؤْمِنِينَ أَجْرًا عَظِيمًا (And Allah will grant to the believers a great reward.) Allah then states that He is too Rich to need anyone and that He only punishes the servants because of their sins, مَّا يَفْعَلُ اللَّهُ بِعَذَابِكُمْ إِن شَكَرْتُمْ وَآمَنتُمْ (Why should Allah punish you if you have thanked (Him) and have believed in Him.) by correcting your actions and having faith in Allah and His Messenger ﷺ, وَكَانَ اللَّهُ شَاكِرًا عَلِيمًا (And Allah is Ever All-Appreciative (of good), All-Knowing.) Allah appreciates those who appreciate Him, and has knowledge of those whose hearts believe in Him, and He will give them perfect reward.
اردو

ابن کثیر اردو

کافر سے دوستی آگ سے دوستی کے مترادف ہے کافروں سے دوستیاں کرنے سے ان سے دلی محبت رکھنے سے ان کے ساتھ ہر وقت اٹھنے بیٹھنے سے مسلمانوں کے بھید ان کو دینے سے اور پوشیدہ تعلقات ان سے قائم رکھنے سے اللہ تعالیٰ ایمانداروں کو روک رہا ہے جیسے اور آیت میں ہے (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ) 3۔ آل عمران :28) مومنوں کو چاہئے کہ بجز مومنوں کے کفار سے دوستی نہ کریں ایسا کرنے والا اللہ کے ہاں کسی بھلائی کا مستحق نہیں ہاں اگر صرف بچاؤ کے طور پر ظاہر داری ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے آپ سے ڈرا رہا ہے یعنی اگر تم اس کی نافرمانیاں کرو گے تو تمہیں اس کے عذابوں کو یاد رکھنا چاہئے، ابن ابی حاتم میں حضرت عبداللہ بن عباس کا فرمان مروی ہے کہ آپ نے فرمایا قرآن میں جہاں کہیں ایسی عبارتوں میں سلطان کا لفظ ہے وہاں اس سے مراد حجت ہے یعنی تم نے اگر مومنوں کو چھوڑ کر کفار سے دلی دوستی کے تعلقات پیدا کئے تو تمہارا یہ فعل کافی ثبوت ہوگا اور پوری دلیل ہوگی جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں سزا دے، کئی ایک سلف مفسرین رحمۃ اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کی یہی تفسیر کی ہے۔ پھر منافقوں کا انجام بیان فرماتا ہے کہ یہ اپنے اس سخت کفر کی وجہ سے جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں داخل کئے جائیں گے درک درجہ کے مقابل کا مظہر ہے بہشت میں درجے ہیں ایک سے ایک بلند اور دوزخ میں درک ہیں ایک سے ایک پست۔ حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں انہیں آگ کے صندوقوں میں بند کر کے جہنم میں ڈالا جائے گا اور یہ جلتے بھنتے رہیں گے، حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں یہ صندوق لوہے کے ہوں گے جو آگ لگتے ہی آگ کے ہوجائیں گے اور چاروں طرف سے بالکل بند ہوں گے اور کوئی نہ ہوگا جو ان کی کسی طرح کی مدد کرے۔ جہنم سے نکال سکے یا عذابوں میں ہی کچھ کم کروا سکے۔ ہاں ان میں سے جو توبہ کرلیں نادم ہوجائیں اور سچے دل سے منافقت چھوڑ دیں اور رب سے اپنے اس گناہ کی معافی چاہیں۔ پھر اپنے اعمال میں اخلاص پیدا کریں صرف خوشنودی اللہ اور مرضی مولی کے لئے نیک اعمال پر کمر کس لیں۔ ریا کاری کو اخلاص سے بدل دیں۔ اللہ تعالیٰ کے دین کو مضبوطی سے تھام لیں تو بیشک اللہ ان کی توبہ قبول فرمائے گا اور انہیں سچے مومنوں میں داخل کر دے گا اور بڑے ثواب اور اعلیٰ اجر عنایت فرمائے گا، ابن ابی حاتم میں ہے آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں اپنے دین کو خالص کرلو تو تھوڑا عمل بھی تمہیں کافی ہوجائے گا، پھر ارشاد ہوتا ہے کہ اللہ غنی ہے بےنیاز ہے بندوں کو سزا کرنی وہ نہیں چاہتا، ہاں جب گناہوں پر دلیر ہوجائیں تو گوش مالی ضروری ہے، پس فرمایا اگر تم اپنے اعمال کو سنوار لو اور اللہ تعالیٰ پر اور اس کے رسول ﷺ پر سچے دل سے ایمان لے آؤ تو کوئی وجہ نہیں جو اللہ تمہیں عذاب دے۔ وہ تو چھوٹی چھوٹی نیکیوں کی بھی قدر دانی کرنے الا ہے، جو اس کا شکر کرے وہ اس کی عزت افزائی کرتا ہے وہ پورے اور صحیح علم والا ہے۔ جانتا ہے کہ کس کا عمل اخلاص والا اور قبولیت اور قدر کے لائق ہے۔ اسے معلوم ہے کہ کس دل میں قوی ایمان ہے اور کونسا دل ایمان سے خالی ہے، جو اخلاص اور ایمان والے ہیں انہیں بھر پور اور کامل بدلے اللہ تعالیٰ عنایت فرمائے گا (اللہ ہمیں ایمان و اخلاص کی دولت سے مالا مال کرے اور پھر اجر وثواب سے نہال کرے آمین)الحمد اللہ ! تفسیر محمدی ابن کثیر کا پانچواں پارہ ختم ہوا۔ اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور ہمیں اپنے کلام کے سمجھنے سمجھانے کی اور اس پر عالم بن جانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ! الہ تو اس پاک تفسیر کو میرے ہاتھوں ختم کرا اور پوری کتاب چھپی ہوئی مجھے دکھا۔ میرے نامہ اعمال سے گناہوں کو مٹا کر نیکیاں تحریر فرما اور اپنے نیک بندوں میں شمار کر، آمین ! !
Kurdî

تەفسیری ڕێبەر

[ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِنْ دُونِ الْمُؤْمِنِينَ ] ئه‌ی باوه‌ڕداران نه‌كه‌ن ئێوه‌ كافران بكه‌ن به‌دۆست و پشتیوان و ڕاوێژكاری خۆتان و نهێنی خۆتانیان پێ بڵێن له‌ جگه‌ له‌ ئیمانداران هه‌روه‌كو چۆن مونافیقان وایان كرد ئێوه‌ ته‌نها باوه‌ڕدار بكه‌ن به‌ دۆست و پشتیوان و سه‌رخه‌رو یارمه‌تیده‌ری خۆتان و نهێنی خۆتان له‌لای ئه‌وان باس بكه‌ن [ أَتُرِيدُونَ أَنْ تَجْعَلُوا لِلَّهِ عَلَيْكُمْ سُلْطَانًا مُبِينًا (١٤٤) ] ئایا ئه‌تانه‌وێ حوجه‌و به‌ڵگه‌یه‌كی ئاشكرا بده‌ن به‌خوای گه‌وره‌ بۆ ئه‌وه‌ی كه‌ سزاتان بدا به‌وه‌ی كه‌ وه‌لائتان بۆ كافران هه‌بێ، واته‌: وا مه‌كه‌ن.
← Back to surah Study this word