Tafsir — Ash-Shura 34

← Back to Ash-Shura
Ash-Shura · Ayah 34 · Ash-Shura
أَوْ يُوبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوا۟ وَيَعْفُ عَن كَثِيرٍ
"Or He could destroy them for what they earned; but He pardons much." — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds. Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you." And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof. Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate (23)Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart. And Allah wipes out falsehood, and establishes the truth by His Word. Verily, He knows well what are in the breasts (24) Good News of the Blessings of Paradise for the People of Faith Having mentioned the gardens of Paradise, Allah then says to His servants who believe and do righteous deeds: ذَٰلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ۗ (That is whereof Allah gives glad tidings to His servants who believe and do righteous good deeds.) meaning, this will undoubtedly come to them, because it is glad tidings from Allah to them. قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ ۗ (Say: "No reward do I ask of you for this except to be kind to me for my kinship with you.") means, 'say, O Muhammad, to these idolators among the disbeliever of Quraysh: I do not ask you for anything in return for this message and sincere advice which I bring to you. All I ask of you is that you withhold your evil from me and let me convey the Messages of my Lord. If you will not help me, then do not disturb me, for the sake of the ties of kinship that exist between you and I.' Al-Bukhari recorded that Ibn 'Abbas, may Allah be pleased with him, was asked about the Ayah: إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَىٰ (except to be kind to me for my kinship with you.) Sa'id bin Jubayr said, "To be kind to the family of Muhammad." Ibn 'Abbas said, "No, you have jumped to a hasty conclusion. There was no clan among Quraysh to whom the Prophet ﷺ did not have some ties of kinship." Ibn 'Abbas said, "Except that you uphold the ties of kinship that exist between me and you." This was recorded by Al-Bukhari. It was also recorded by Imam Ahmad with a different chain of narration. وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ۚ (And whoever earns a good righteous deed, We shall give him an increase of good in respect thereof) means, 'whoever does a good deed, We will increase him in good for it, i.e., in reward.' This is like the Ayah: إِنَّ اللَّهَ لَا يَظْلِمُ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ ۖ وَإِنْ تَكُ حَسَنَةً يُضَاعِفْهَا وَيُؤْتِ مِنْ لَدُنْهُ أَجْرًا عَظِيمًا (Surely, Allah wrongs not even of the weight of a speck of dust, but if there is any good, He doubles it, and gives from Him a great reward.)(4:40) إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ (Verily, Allah is Oft-Forgiving, Most Ready to appreciate.) means, He forgives many bad deeds and increases a small amount of good deeds; He conceals and forgives sins and He multiplies and increases the reward of good deeds. The Accusation that the Prophet ﷺ fabricated the Qur'an - and the Response to that Allah's saying; أَمْ يَقُولُونَ افْتَرَىٰ عَلَى اللَّهِ كَذِبًا ۖ فَإِنْ يَشَإِ اللَّهُ يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ ۗ (Or say they: "He has invented a lie against Allah?" If Allah willed, He could have sealed up your heart.) means, 'if you had invented any lies against Him, as these ignorant people claim,' يَخْتِمْ عَلَىٰ قَلْبِكَ (He could have sealed up your heart.) means, 'and thus caused you to forget what had already come to you of the Qur'an.' This is like the Ayah: وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ - لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ - ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ - فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ (And if he had forged a false saying concerning Us (Allah), We surely would have seized him by his right hand, and then We certainly would have cut off his life artery, And none of you could have withheld Us from (punishing) him.)(69:44-47) which means, 'We would have wrought the utmost vengeance upon him, and no one among mankind would have been able to protect him.' And Allah said: وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمَاتِهِ (and establishes the truth by His Word.) means, He establishes it and strengthens it and makes it clear by His Words, i.e., by His evidence and signs. إِنَّهُ عَلِيمٌ بِذَاتِ الصُّدُورِ (Verily, He knows well what are in the breasts.) means, all that is hidden in the hearts of men.
اردو

ابن کثیر اردو

رسول اللہ سے قرابت داری کی فضیلت اوپر کی آیتوں میں جنت کی نعمتوں کا ذکر کر کے بیان فرما رہا ہے کہ ایمان دار نیک کار بندوں کو اس کی بشارت ہو پھر اپنے نبی سے فرماتا ہے کہ قریش کے مشرکین سے کہہ دو کہ اس تبلیغ پر اور اس تمہاری خیر خواہی پر میں تم سے کچھ طلب تو نہیں کر رہا۔ تمہاری بھلائی تو ایک طرف رہی تم اگر اپنی برائی سے ہی ٹل جاؤ اور مجھے رب کی رسالت پہنچانے دو اور قرابت داری کے رشتے کو سامنے رکھ کر میری ایذاء رسانی سے ہی رک جاؤ تو یہی بہت ہے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر دریافت کی گئی تو حضرت سعید بن جبیر ؒ نے کہا اس سے مراد قرابت آل محمد ﷺ ہے یہ سن کر آپ نے فرمایا تم نے عجلت سے کام لیا سنو قریش کے جس قدر قبیلے تھے سب کے ساتھ حضور کی رشتہ داری تھی تو مطلب یہی کہ تم اس رشتے داری کا لحاظ رکھو جو مجھ میں اور تم میں ہے حضرت مجاہد، حضرت عکرمہ، حضرت قتادہ، حضرت سدی، حضرت ابو مالک، حضرت عبد الرحمن وغیرہ بھی اس آیت کی یہی تفسیر کرتے ہیں۔ مسند احمد میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا کہ میں نے تمہیں جو دلیلیں دی ہیں جس ہدایت کا راستہ بتایا ہے اس پر کوئی اجر تم سے نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ تم اللہ کو چاہنے لگو اور اس کی اطاعت کی وجہ سے اس سے قرب اور نزدیکی حاصل کرلو حضرت حسن بصری سے بھی یہی تفسیر منقول ہے تو یہ دوسرا قول ہوا پہلا قول حضور ﷺ کا اپنی رشتے داری کو یاد دلانا دوسرا قول آپ کی یہ طلب کہ لوگ اللہ کی نزدیکی حاصل کرلیں تیسرا قول جو حضرت سعید بن جبیر کی روایت سے گزرا کہ تم میری قرابت کے ساتھ احسان اور نیکی کرو۔ ابو الدیلم کا بیان ہے کہ جب حضرت علی بن حسین کو قید کر کے لایا گیا اور دمشق کے بالا خانے میں رکھا گیا تو ایک شامی نے کہا اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تمہیں قتل کرایا اور تمہارا ناس کرا دیا اور فتنہ کی ترقی کو روک دیا یہ سن کر آپ نے فرمایا کیا تو نے قرآن بھی پڑھا ہے اس نے کہا کیوں نہیں ؟ فرمایا اس میں (حم) والی سورتیں بھی پڑھی ہیں ؟ اس نے کہا واہ سارا قرآن پڑھ لیا اور (حم) والی سورتیں نہیں پڑھیں ؟ آپ نے فرمایا پھر کیا ان میں اس آیت کی تلاوت تو نے نہیں کی ؟ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23؀) 42۔ الشوری :23) یعنی میں تم سے کوئی اجر طلب نہیں کرتا مگر محبت قرابت کی۔ اس نے کہا پھر کیا تم وہ ہو ؟ آپ نے فرمایا ہاں ! حضرت عمرو بن شعیب سے جب اس آیت کی تفسیر پوچھی گئی تو آپ نے فرمایا مراد قرابت رسول ﷺ ہے۔ ابن جریر میں ہے کہ انصار نے اپنی خدمات اسلام گنوائیں گویا فخر کے طور پر۔ اس پر ابن عباس یا حضرت عباس نے فرمایا ہم تم سے افضل ہیں جب یہ خبر حضور ﷺ کو ملی تو آپ ان کی مجلس میں آئے اور فرمایا انصاریو کیا تم ذلت کی حالت میں نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے عزت بخشی ! انہوں نے کہا بیشک آپ سچے ہیں۔ فرمایا کیا تم گمراہ نہ تھے ؟ پھر اللہ نے تمہیں میری وجہ سے ہدایت کی ؟ انہوں نے کہا ہاں بیشک آپ نے سچ فرمایا پھر آپ نے فرمایا اب تم مجھے کیوں نہیں کہتے ؟ انہوں نے کہا کیا کہیں ؟ فرمایا کیوں نہیں کہتے ؟ کہ کیا تیری قوم نے تجھے نکال نہیں دیا تھا ؟ اس وقت ہم نے تجھے پناہ دی کیا انہوں نے تجھے جھٹلایا نہ تھا ؟ اس وقت ہم نے تیری تصدیق کی ؟ کیا انہوں نے تجھے پست کرنا نہیں چاہا تھا اس وقت ہم نے تیری مدد کی ؟ اس طرح کی آپ نے اور بھی بہت سی باتیں کیں یہاں تک کہ انصار اپنے گھٹنوں پر جھک پڑے اور انہوں نے کہا حضور ﷺ ہماری اولاد اور جو کچھ ہمارے پاس ہے سب اللہ کا اور سب اس کے رسول کے لئے ہے۔ پھر یہ آیت (قُلْ لَّآ اَسْـَٔــلُكُمْ عَلَيْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبٰى ۭ وَمَنْ يَّــقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِيْهَا حُسْنًا ۭ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ 23؀) 42۔ الشوری :23) نازل ہوئی۔ ابن ابی حاتم میں بھی اسی کے قریب ضعیف سند سے مروی ہے بخاری و مسلم میں یہ حدیث ہے اس میں ہے کہ یہ واقعہ حنین کی غنیمت کی تقسیم کے وقت پیش آیا تھا اور اس میں آیت کے اترنے کا ذکر بھی نہیں اور اس آیت کو مدینے میں نازل شدہ ماننے میں بھی قدرے تامل ہے اس لئے کہ یہ سورت مکی ہے پھر جو واقعہ حدیث میں مذکور ہے اس واقعہ میں اور اس آیت میں کچھ ایسی زیادہ ظاہر مناسبت بھی نہیں ایک روایت میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا اس آیت سے کون لوگ مراد ہیں جن کی محبت رکھنے کا ہمیں حکم باری ہوا ہے آپ نے فرمایا حضرت فاطمہ اور ان کی اولاد ؓ۔ لیکن اس کی سند ضعیف ہے اور اس کا راوی مبہم ہے جو معروف نہیں پھر اس کا استاد ایک شیعہ ہے جو بالکل ثقاہت سے گرا ہوا ہے اس کا نام حسین اشغر ہے اس جیسی حدیث بھلا اس کی روایت سے کیسے مان لی جائے گی ؟ پھر مدینے میں آیت نازل ہونا ہی مستعد ہے حق یہ ہے کہ آیت مکی ہے اور مکہ شریف میں حضرت فاطمہ کا عقد ہی نہ ہوا تھا اولاد کیسی ؟ آپ کا عقد تو صرف حضرت علی کے ساتھ جنگ بدر کے بعد سنہ002ھ میں ہوا۔ پس صحیح تفسیر اس کی وہی ہے جو حبر المہ ترجمان القرآن حضرت عبداللہ بن عباس نے کی ہے جو بحوالہ بخاری پہلے گذر چکی ہم اہل بیت کے ساتھ خیرخواہی کرنے کے منکر نہیں ہے ہم مانتے ہیں کہ ان کے ساتھ احسان و سلوک اور ان کا اکرام و احترام ضروری چیز ہے روئے زمین پر ان سے زیادہ پاک اور صاف ستھرا گھرانا اور نہیں حسب و نسب میں اور فخر و مباہات میں بلا شک یہ سب سے اعلیٰ ہیں۔ بالخصوص ان میں سے وہ جو متبع سنت نبی ہوں جیسے کہ اسلاف کی روش تھی یعنی حضرت عباس اور آل عباس کی اور حضرت علی اور آل علی کی ؓ اجمعین۔ رسول اللہ ﷺ نے اپنے خطبے میں فرمایا ہے میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کتاب اللہ اور میری عزت اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گے جب تک کہ حوض پر میرے پاس نہ آئیں مسند احمد میں ہے کہ ایک مرتبہ حضرت عباد بن عبدالملک نے رسول اللہ ﷺ سے شکایت کی کہ قریشی جب آپس میں ملتے ہیں تو بڑی خندہ پیشانی سے ملتے ہیں۔ لیکن ہم سے اس ہنسی خوشی کے ساتھ نہیں ملتے۔ یہ سن کر آپ بہت رنجیدہ ہوئے اور فرمانے لگے اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے کسی کے دل میں ایمان داخل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ اللہ کے لئے اور اس کے رسول کی وجہ سے تم سے محبت نہ رکھے اور روایت میں ہے کہ حضرت عباس نے کہا قریشی باتیں کرتے ہوتے ہیں ہمیں دیکھ کر چپ ہوجاتے ہیں اسے سن کر مارے غصے کے آپ کی پیشانی پر بل پڑگئے اور فرمایا واللہ کسی مسلمان کے دل میں ایمان جاگزیں نہیں ہوگا جب تک کہ وہ تم سے اللہ کے لئے اور میری قرابت داری کی وجہ سے محبت نہ رکھے صحیح بخاری میں ہے کہ حضرت صدیق اکبر نے فرمایا لوگو حضور ﷺ کا لحاظ حضور ﷺ کے اہل بیت میں رکھو ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے حضرت علی سے فرمایا اللہ کی قسم رسول اللہ ﷺ کے قرابت داروں سے سلوک کرنا مجھے اپنے قرابت داروں کے سلوک سے بھی پیارا ہے حضرت عمر فاروق نے حضرت عباس سے فرمایا واللہ تمہارا اسلام لانا مجھے اپنے والد خطاب کے اسلام لانے سے بھی زیادہ اچھا لگا اس لئے کہ تمہارا اسلام حضور ﷺ کو خطاب کے اسلام سے زیادہ محبوب تھا۔ پس اسلام کے ان دو چمکتے ستاروں کا مسلمانوں کے ان دونوں سیدوں کا جو معاملہ آل رسول ﷺ اوراقربا پیغمبر کے ساتھ تھا وہی عزت و محبت کا معاملہ مسلمانوں کو آپ کے اہل بیت اور قرابت داروں سے رکھنا چاہیے۔ کیونکہ نبیوں اور رسولوں کے بعد تمام دنیا سے افضل یہی دونوں بزرگ خلیفہ رسول تھے پس مسلمانوں کو ان کی پیروی کر کے حضور ﷺ کے اہل بیت اور کنبے قبیلے کے ساتھ جس عقیدت سے پیش آنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ان دونوں خلیفہ سے اہل بیت سے اور حضور ﷺ کے کل صحابہ سے خوش ہوجائے اور سب کو اپنی رضا مندی میں لے لے آمین۔ صحیح مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کہ یزید بن حیان اور حصین بن میسرہ اور عمر بن مسلم حضرت زید بن ارقم کے پاس گئے حضرت حصین نے کہا اے حضرت آپ کو تو بڑی بڑی خیر و برکت مل گئی آپ نے اللہ کے نبی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا آپ نے اللہ کے پیغمبر ﷺ کی باتیں اپنے کانوں سے سنیں آپ کے ساتھ جہاد کیے آپ کے ساتھ نمازیں پڑھیں حق تو یہ ہے کہ بڑی بڑی فضیلتیں آپ نے سمیٹ لیں اچھا اب کوئی حدیث ہمیں بھی بتائیے۔ اس پر حضرت زید نے فرمایا میرے بھتیجے سنو میری عمر اب بڑی ہوگئی حضور ﷺ کی رحلت کو عرصہ گذر چکا بعض چیزیں ذہن میں محفوظ نہیں رہیں اب تو یہی رکھو کہ جو از خود سنا دوں اسے مان لیا کرو ورنہ مجھے تکلیف نہ دو کہ تکلف سے بیان کرنا پڑے پھر آپ نے فرمایا کہ مکہ اور مدینے کے درمیان پانی کی جگہ کے پاس جسے خم کہا جاتا تھا کھڑے ہو کر اللہ کے رسول ﷺ نے ہمیں ایک خطبہ سنایا اللہ کی حمد وثنا کی وعظ و پند کیا پھر فرمایا لوگو میں ایک انسان ہوں کیا عجب کہ ابھی ابھی میرے پاس قاصد اللہ پہنچ جائے اور میں اس کی مان لوں سنو میں تم میں دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں ایک تو کتاب اللہ جس میں نور و ہدایت ہے تم اللہ کی کتاب کو مضبوط تھام لو اور اس کو مضبوطی سے تھامے رہو پس اس کی بڑی رغبت دلائی اور بہت کچھ تاکید کی پھر فرمایا اے میرے اہل بیت میں تمہیں اپنے اہل بیت کے بارے میں اللہ کو یاد دلاتا ہوں یہ سن کر حصین نے حضرت زید سے پوچھا اے زید آپ کے اہل بیت کون ہیں ؟ کیا آپ کی بیویاں اہل بیت میں داخل نہیں ؟ فرمایا بیشک آپ کی بیویاں وہ ہیں جن پر آپ کے بعد صدقہ حرام ہے پوچھا وہ کون ہیں ؟ فرمایا آل علی، آل عقیل، آل جعفر، آل عباس ؓ پوچھا کیا ان سب پر صدقہ حرام ہے ؟ فرمایا ہاں ! ترمذی شریف میں ہے حضور ﷺ نے فرمایا میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے مضبوط تھامے رہے تو بہکو گے نہیں ایک دوسری سے زیادہ عظمت والی ہے کتاب اللہ جو اللہ کی طرف سے ایک لٹکائی ہوئی رسی ہے جو آسمان سے زمین تک آئی ہے اور دوسری چیز میری عترت میرے اہل بیت ہے اور یہ دونوں جدا نہ ہوں گی یہاں تک کہ دونوں میرے پاس حوض کوثر پر آئیں۔ پس دیکھ لو کہ میرے بعد کس طرح ان میں میری جانشینی کرتے ہو ؟ امام صاحب فرماتے ہیں کہ یہ حدیث حسن غریب ہے اور صرف ترمذی میں ہے یہ روایت ہے حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت سے ترمذی میں ہے کہ عرفے والے دن رسول اللہ ﷺ نے اپنی اونٹنی پر سوار ہو کر جسے قصوا کہا جاتا تھا خطبہ دیا جس میں فرمایا لوگو میں تم میں ایسی چیز چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر تم اسے تھامے رہے تو ہرگز گمراہ نہیں ہو گے کتاب اللہ اور میری عترت اہل بیت۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ اللہ کی نعمتوں کو مدنظر رکھ کر تم لوگ اللہ تعالیٰ سے محبت رکھو اور اللہ کی محبت کی وجہ سے مجھ سے محبت رکھو اور میری محبت کی وجہ سے میری اہل بیت سے محبت رکھو یہ حدیث اور اوپر کی حدیث حسن غریب ہے اس مضمون کی اور احادیث ہم نے آیت (اِنَّمَا يُرِيْدُ اللّٰهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ اَهْلَ الْبَيْتِ وَيُطَهِّرَكُمْ تَطْهِيْرًا 33؀ۚ) 33۔ الأحزاب :33) کی تفسیر میں وارد کردی ہیں یہاں ان کے دہرانے کی ضرورت نہیں فالحمد اللہ۔ ایک ضعیف حدیث مسند ابو یعلی میں ہے کہ حضرت ابوذر نے بیت اللہ کے دروازے کا کنڈا تھامے ہوئے فرمایا لوگو جو مجھے جانتے ہیں وہ تو جانتے ہی ہیں جو نہیں پہچانتے وہ اب پہچان کرلیں کہ میرا نام ابوذر ہے سنو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ تم میں میرے اہل بیت کی مثال مثل نوح ؑ کی کشتی کے ہے اس میں جو چلا گیا اس نے نجات پالی اور جو اس میں داخل نہ ہوا ہلاک ہوا پھر فرماتا ہے جو نیک عمل کرے ہم اس کا ثواب اور بڑھا دیتے ہیں جیسے ایک اور آیت میں فرمایا اللہ تعالیٰ ایک ذرے کے برابر ظلم نہیں کرتا اگر نیکی ہو تو اور بڑھا دیتا ہے اور اپنے پاس سے اجر عظیم عنایت فرماتا ہے بعض سلف کا قول ہے کہ نیکی کا ثواب اس کے بعد نیکی ہے اور برائی کا بدلہ اس کے بعد برائی ہے پھر فرمان ہوا کہ اللہ گناہوں کو بخشنے والا ہے اور نیکیوں کی قدر دانی کرنے والا ہے انہیں بڑھا چڑھا کردیتا ہے پھر فرماتا ہے کہ یہ جاہل کفار جو کہتے ہیں کہ یہ قرآن تو نے گھڑ لیا ہے اور اللہ کے نام لگا دیا ہے ایسا نہیں اگر ایسا ہوتا تو اللہ تیرے دل پر مہر لگا دیتا اور تجھے کچھ بھی یاد نہ رہتا جیسے فرمان ہے آیت (وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْلِ 44 ؀ۙ) 69۔ الحاقة :44) اگر یہ رسول ہمارے ذمے کچھ باتیں لگا دیتے تو ہم ان کا داہنا ہاتھ پکڑ کر ان کے دل کی رگ کاٹ ڈالتے اور تم میں سے کوئی انہیں اس سزا سے نہ بچا سکتا۔ یعنی یہ اگر ہمارے کلام میں کچھ بھی زیادتی کرتے تو ایسا انتقام لیتے کہ دنیا کی کوئی ہستی اسے نہ بچا سکتی اس کے بعد کا جملہ آیت (ویمح اللہ) الخ، (یختم) پر معطوف نہیں بلکہ یہ مبتدا ہے اور مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ آیت (یختم) پر عطف نہیں جو مجزوم ہو۔ واؤ کا کتابت میں نہ آنا یہ صرف امام کے رسم خط کی موافقت کی وجہ سے ہے جیسے آیت (سَـنَدْعُ الزَّبَانِيَةَ 18؀ۙ) 96۔ العلق :18) میں واؤ لکھنے میں نہیں آئی۔ اور آیت (وَيَدْعُ الْاِنْسَان بالشَّرِّ دُعَاۗءَهٗ بالْخَيْرِ ۭ وَكَانَ الْاِنْسَانُ عَجُوْلًا 11؀) 17۔ الإسراء :11) میں واؤ نہیں لکھی گئی ہاں اس کے بعد کے جملے آیت (اَنْ يُّحِقَّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ وَيَقْطَعَ دَابِرَ الْكٰفِرِيْنَ ۙ) 8۔ الانفال :7) کا عطف آیت (وَيَمْــحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَيُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ ۭ اِنَّهٗ عَلِيْمٌۢ بِذَات الصُّدُوْرِ 24؀) 42۔ الشوری :24) ، پر ہے یعنی اللہ تعالیٰ حق کو واضح اور مبین کردیتا ہے اپنے کلمات سے یعنی دلائل بیان فرما کر حجت پیش کر کے وہ خوب دانا بینا ہے دلوں کے راز سینوں کے بھید اس پر کھلے ہوئے ہیں۔
Kurdî

تەفسیری ڕێبەر

[ ذَلِكَ الَّذِي يُبَشِّرُ اللَّهُ عِبَادَهُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ ] خوای گه‌وره‌ به‌م شێوه‌یه‌ موژده‌ ئه‌دات به‌و كه‌سانه‌ی كه‌ باوه‌ڕیان هێناوه‌و كرده‌وه‌ی چاكیان كردووه‌، (كرده‌وه‌ی چاك ئه‌وه‌یه‌ بۆ خوا بێت و بۆ ریا نه‌بێت، وه‌ له‌سه‌ر سوننه‌ت بێت و بیدعه‌ نه‌بێت) [ قُلْ لَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ أَجْرًا إِلَّا الْمَوَدَّةَ فِي الْقُرْبَى ] پیاوێك پرسیاری له‌ (ئیبنو عه‌بباس) كرد ده‌رباره‌ی ئه‌م ئایه‌ته‌، (سه‌عیدی كوڕی جوبه‌یر) وتی: مه‌به‌ست خزمه‌كانی پێغه‌مبه‌ری خوایه‌ - صلی الله علیه وسلم -، (ئیبنو عه‌بباس) فه‌رمووی: په‌له‌ت كرد هیچ هۆزێكی قوڕه‌یش نه‌بووه‌ ئیلا خزمی پێغه‌مبه‌ری خوای - صلی الله علیه وسلم - تێدا بووه‌، فه‌رمووی: په‌یوه‌ندی خزمایه‌تی بگه‌یه‌نن، خوای گه‌وره‌ ئه‌م ئایه‌ته‌ی دابه‌زاند: ئه‌ی محمد - صلی الله علیه وسلم - پێیان بلێ: من كاتێك كه‌ بانگه‌وازتان ئه‌كه‌م بۆ دین داوای پاداشت و ئه‌جرتان لێ ناكه‌م له‌سه‌ر گه‌یاندنی دینه‌كه‌ به‌ڵكو ته‌نها ڕه‌چاوی خزمایه‌تی بكه‌ن و ئێوه‌ شایه‌نترن له‌ خه‌ڵكی تر كه‌ بمپارێزن و ڕێگریم لێ نه‌كه‌ن په‌یامی خوای گه‌وره‌ بگه‌یه‌نم و ئازارم نه‌ده‌ن، (وه‌ مانای ئه‌وه‌ی تێدایه‌ كه‌ فه‌زڵی ئالوبه‌یتی پێغه‌مبه‌ری خوا - صلی الله علیه وسلم - بزانین، وه‌ خۆشمان بوێن) [ وَمَنْ يَقْتَرِفْ حَسَنَةً نَزِدْ لَهُ فِيهَا حُسْنًا ] وه‌ هه‌ر كه‌سێكیش كه‌ چاكه‌یه‌ك بكات ئه‌وه‌ ئێمه‌ پاداشتی چاكه‌ی زیاتری ئه‌ده‌ینه‌وه‌ به‌ چه‌ند قاتێك، (وه‌ له‌ پاداشتی چاكه‌ ئه‌وه‌یه‌ كه‌ چاكه‌ی تری به‌ دوادا ده‌كه‌یت، وه‌ له‌ سزای خراپه‌ ئه‌وه‌یه‌ كه‌ خراپه‌ی تری به‌ دوادا بكه‌یت) [ إِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ شَكُورٌ (٢٣) ] به‌ڕاستی خوای گه‌وره‌ زۆر لێخۆشبوو سوپاسگوزاره‌.
Tiếng Việt

Mokhtasar Tiếng Việt

Đó là một tin mừng to lớn mà Allah báo tin thông qua sứ mạng của Thiên Sứ của Ngài dành cho những ai tin tưởng vào Allah, vào các Thiên Sứ của Ngài, và năng nổ hành đạo. Ngươi hãy bảo họ - hỡi Thiên Sứ -: Ta không đòi hỏi các ngươi bất cứ phần thưởng nào cho việc truyền đạt chân lý ngoại trừ một phần thưởng đơn thuần duy nhất mà lại có lợi cho các ngươi, đó là các ngươi hãy thương yêu Ta vì mối quan hệ họ hàng ruột thịt giữa chúng ta. Và ai làm một việc tốt thì sẽ được nhân phần thưởng của y lên, vì một việc làm tốt phần thưởng của nó sẽ được nhân lên gấp mười lần. Quả thật, Allah hằng tha thứ tội lỗi cho đám bầy tôi của Ngài khi y biết quay về sám hối, hằng ghi công những việc làm ngoan đạo mà họ làm vì muốn nhận được sự hài lòng của Ngài
← Back to surah 📖 Read & Study Words