Tafsir — Ash-Shura 9

← Back to Ash-Shura
Ash-Shura · Ayah 9 · Ash-Shura
أَمِ ٱتَّخَذُوا۟ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءَ ۖ فَٱللَّهُ هُوَ ٱلْوَلِىُّ وَهُوَ يُحْىِ ٱلْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
"Say, "Have you considered: if it [i.e., the Qur’ān] is from Allāh and you disbelieved in it, who would be more astray than one who is in extreme dissension?"" — Sahih International
English

Ibn Kathir (English)

by Hafiz Ibn Kathir
Say: "Tell me, if it is from Allah, and you disbelieve in it Who is more astray than one who is in opposition far away. (52)We will show them Our signs in the universes, and within themselves, until it becomes manifest to them that this is the truth. Is it not sufficient in regard to your Lord that He is a Witness over all things (53)Lo, Verily, they are in doubt concerning the meeting with their Lord. Verily, He is surrounding all things (54) The Qur'an and the Proofs of its Truth Allah says: قُلْ (Say) – 'O Muhammad, to these idolators who disbelieve in the Qur'an'– أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ (Tell me, if it) – this Qur'an – مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهِ (is from Allah, and you disbelieve in it?) means, 'what do you think your position is before the One Who revealed it to His Messenger?' Allah says: مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (Who is more astray than one who is in opposition far away.) means, he is in a state of disbelief, stubbornness and opposition to the truth, and is following a path that leads far away from guidance. Then Allah says: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ (We will show them Our signs in the universe, and within themselves,) meaning, 'We will show them Our evidence and proof that the Qur'an is true and has indeed been sent down from Allah to the Messenger of Allah, through external signs, فِي الْآفَاقِ (in the universe), ' such as conquests and the advent of Islam over various regions and over all other religions. Mujahid, Al-Hasan and As-Suddi said, "And signs within themselves means, the battle of Badr, the conquest of Makkah, and other events which befell them, where Allah granted victory to Muhammad ﷺ and his Companions, and inflicted a humiliating defeat on falsehood and its followers." It may also be that what is meant here is man and his physical composition. As detailed in the science of anatomy, which indicates the wisdom of the Creator – may He be blessed and exalted – and the different inclinations and opposite natures that people have, good and bad, etc., and the (divine) decrees to which man is subjected, having no power to change and over which he has no control. حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ (until it becomes manifest to them that this (the Qur'an) is the truth. Is it not sufficient in regard to your Lord that He is a Witness over all things?) means, sufficient is Allah as a Witness over the words and deeds of His servants, and He bears witness that Muhammad ﷺ is telling the truth in what he says, as Allah says: لَٰكِنِ اللَّهُ يَشْهَدُ بِمَا أَنْزَلَ إِلَيْكَ ۖ أَنْزَلَهُ بِعِلْمِهِ ۖ (But Allah bears witness to that which He has sent down unto you; He has sent it down with His knowledge)(4:166). أَلَا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَاءِ رَبِّهِمْ ۗ (Lo, Verily, they are in doubt concerning the meeting with their Lord.) means, they doubt that the Hour will come, they do not think about it or strive for it or pay heed to it; on the contrary, they regard it as irrelevant and do not care about it. But it will undoubtedly come to pass. Then Allah states that He is Able to do all things and He encompasses all things, and it is very easy for Him to bring about the Hour: أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ (Verily, He is surrounding all things!) means, all of creation is subject to His control, dominion and knowledge; He is controlling all things by His power, so whatever He wills happens, and whatever He does not will does not happen, and there is no god worthy of worship apart from Him. This is the end of the Tafsir of Surah Fussilat. To Allah be praise and blessings.
Kurdî

تەفسیری ڕێبەر

[ قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللَّهِ ثُمَّ كَفَرْتُمْ بِهِ مَنْ أَضَلُّ مِمَّنْ هُوَ فِي شِقَاقٍ بَعِيدٍ (٥٢) ] ئه‌ی محمد - صلی الله علیه وسلم - به‌و كافرانه‌ بلێ: هه‌واڵم پێ بده‌ن ئه‌گه‌ر ئه‌م قورئانه‌ له‌لایه‌ن خوای گه‌وره‌وه‌ بێ وه‌ ئێوه‌ كوفری پێ بكه‌ن وه‌ باوه‌ڕی پێ نه‌كه‌ن كێ هه‌یه‌ گومڕاتر له‌و كه‌سه‌ی كه‌ ئاوا له‌ دژایه‌تی كردنی كتابی خوای گه‌وره‌دا بێ، واته‌: كه‌س نیه‌ وه‌كو ئه‌مانه‌ له‌ گومڕاییدا بێت.
اردو

ابن کثیر اردو

قرآن کریم کی حقانیت کے بعض دلائل اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ سے فرماتا ہے کہ قرآن کے جھٹلانے والے مشرکوں سے کہہ دو کہ مان لو یہ قرآن سچ مچ اللہ ہی کی طرف سے ہے اور تم اسے جھٹلا رہے ہو تو اللہ کے ہاں تمہارا کیا حال ہوگا ؟ اس سے بڑھ کر گمراہ اور کون ہوگا جو اپنے کفر اور اپنی مخالفت کی وجہ سے راہ حق سے اور مسلک ہدایت سے بہت دور نکل گیا ہو پھر اللہ تعالیٰ عزوجل فرماتا ہے کہ قرآن کریم کی حقانیت کی نشانیاں اور خصلتیں انہیں ان کے گرد و نواح میں دنیا کے چاروں طرف دکھا دیں گے۔ مسلمانوں کو فتوحات حاصل ہوں گی وہ سلطنتوں کے سلطان بنیں گے۔ تمام دینوں پر اس دین کو غلبہ ہوگا فتح بدر اور فتح مکہ کی نشانیاں خود ان میں موجود ہوں گی۔ کافر لوگ تعداد اور شان و شوکت میں بہت زیادہ ہوں گے پھر بھی مٹھی بھر اہل حق انہیں زیر و زبر کردیں گے اور ممکن ہے یہ مراد ہو کہ حکمت الیٰ کی ہزارہا نشانیاں خود انسان کے اپنے وجود میں موجود ہیں اس کی صنعت و بناوٹ اس کی ترکیب وجبلت اس کے جداگانہ اخلاق اور مختلف صورتیں اور رنگ روپ وغیرہ اس کے خالق و صانع کی بہترین یاد گاریں ہر وقت اس کے سامنے ہیں بلکہ اس کی اپنی ذات میں موجود ہیں پھر اس کا ہیر پھیر کبھی کوئی حالت کبھی کوئی حالت۔ بچپن، جوانی، بڑھاپا، بیماری، تندرستی، تنگی، فراخی رنج و راحت وغیرہ اوصاف جو اس پر طاری ہوتے ہیں۔ شیخ ابو جعفر قرشی نے اپنے اشعار میں بھی اسی مضمون کو ادا کیا ہے۔ الغرض یہ بیرونی اور اندرونی آیات قدرت اس قدر ہیں کہ انسان اللہ کی باتوں کی حقانیت کے ماننے پر مجبور ہوجاتا ہے اللہ تعالیٰ کی گواہی بس کافی ہے وہ اپنے بندوں کے اقوال و افعال سے بخوبی واقف ہے۔ جب وہ فرما رہا ہے کہ پیغمبر صاحب ﷺ سچے ہیں تو پھر تمہیں کیا شک ؟ جیسے ارشاد ہے آیت (لٰكِنِ اللّٰهُ يَشْهَدُ بِمَآ اَنْزَلَ اِلَيْكَ اَنْزَلَهٗ بِعِلْمِهٖ ۚ وَالْمَلٰۗىِٕكَةُ يَشْهَدُوْنَ ۭوَكَفٰي باللّٰهِ شَهِيْدًا01606ۭ) 4۔ النسآء :166) یعنی لیکن اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعہ جس کو تمہارے پاس بھیجی ہے اور اپنے علم کے ساتھ نازل فرمائی ہے خود گواہی دے رہا ہے اور فرشتے اس کی تصدیق کر رہے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی گواہی کافی ہے پھر فرماتا ہے کہ دراصل ان لوگوں کو قیامت کے قائم ہونے کا یقین ہی نہیں اسی لئے بےفکر ہیں نیکیوں سے غافل ہیں برائیوں سے بچتے نہیں۔ حالانکہ اس کا آنا یقینی ہے۔ ابن ابی الدنیا میں ہے کہ خلیفۃ المسلمین حضرت عمر بن عبدالعزیز ؓ منبر پر چڑھے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا لوگو میں نے تمہیں کسی نئی بات کے لئے جمع نہیں کیا بلکہ صرف اس لئے جمع کیا ہے کہ تمہیں یہ سنا دوں کہ روز جزا کے بارے میں میں نے خوب غور کیا میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے اور اسے جھوٹا جاننے والا ہلاک ہونے والا ہے۔ پھر آپ منبر سے اتر آئے۔ آپ کے اس فرمان کا کہ اسے سچا جاننے والا احمق ہے یہ مطلب ہے کہ سچ جانتا ہے پھر تیاری نہیں کرتا اور اس کی دل ہلا دینے والی دہشت ناک حالتوں سے غافل ہے اس سے ڈر کر وہ اعمال نہیں کرتا جو اسے اس روز کے ڈر سے امن دے سکیں پھر اپنے آپ کو اس کا سچا جاننے والا بھی کہتا ہے لہو و لعب غفلت و شہوت گناہ اور حماقت میں مبتلا ہے اور قیام قیامت کے قریب ہو رہا ہے واللہ اعلم۔ پھر رب العالمین اپنی قدرت کاملہ کو بیان فرما رہا ہے کہ ہر چیز پر اس کا احاطہ ہے قیام قیامت اس پر بالکل سہل ہے، ساری مخلوق اس کے قبضے میں ہے جو چاہے کرے کوئی اس کا ہاتھ تھام نہیں سکتا جو اس نے چاہا ہوا جو چاہے گا ہو کر رہے گا اس کے سوا حقیقی حاکم کوئی نہیں ہے نہ اس کے سوا کسی اور کی ذات کی کسی قسم کی عبادت کے قابل ہے۔
日本語

モフタサル 日本語

by Tafsir Center
使徒よ、かれら嘘呼ばわりする多神教徒たちに言え。「このクルアーンがアッラーからのものであるとして、あなた方がそれを否定し嘘呼ばわりするのであれば、あなた方の状態はいかなるものになるだろうか?その根拠と力が明白なのにも関わらず、真理に盾突く者よりもひどく迷っている者があろうか?」
← Back to surah Study this word