Al-Isra · Ayah 42 · Al-Isra
قُل لَّوْ كَانَ مَعَهُۥٓ ءَالِهَةٌ كَمَا يَقُولُونَ إِذًا لَّٱبْتَغَوْا۟ إِلَىٰ ذِى ٱلْعَرْشِ سَبِيلًا
"Say, [O Muhammad], "If there had been with Him [other] gods, as they say, then they [each] would have sought to the Owner of the Throne a way.""
— Sahih International
And kill not your children for fear of poverty. We shall provide for them as well as for you. Surely, the killing of them is a great sin (31)
Prohibition of killing Children
This Ayah indicates that Allah is more compassionate towards His servants than a father to his child, because He forbids killing children just as He enjoins parents to take care of their children in matters of inheritance. The people of Jahiliyyah would not allow their daughters to inherit from them, and some would even kill their daughters lest they make them more poor. Allah forbade that and said:
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ
(And kill not your children for fear of poverty.) meaning, lest they may make you poor in the future. This is why Allah mentions the children's provision first:
نَّحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ
(We shall provide for them as well as for you.) In Surat Al-An'am, Allah says:
وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُم مِّنْ إِمْلَاقٍ
(kill not your children because of poverty.)[6:151]
نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ
(We provide sustenance for you and for them)[6:151] and,
إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا
(Surely, the killing of them is a great sin.) means, a major sin. In Two Sahihs it is recorded that 'Abdullah bin Mas'ud said: "I said, 'O Messenger of Allah, which sin is the worst?' He said,
أَنْ تَجْعَلَ لِلّهِ نِدًّا وَهُوَ خَلَقَكَ. قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تَقْتُلَ وَلَدَكَ خَشْيَةَ أَنْ يَطْعَمَ مَعَكَ. قُلْتُ: ثُمَّ أَيٌّ؟ قَالَ: أَنْ تُزَانِيَ بِحَلِيلَةِ جَارِكَ
(To appoint rivals of Allah when He has created you.) I asked, 'Then what?' He said, (To kill your child lest he should eat with you.) I asked, 'Then what?' He said, (To commit adultery with your neighbor's wife.)"
[ وَلَا تَقْتُلُوا أَوْلَادَكُمْ خَشْيَةَ إِمْلَاقٍ ] وه منداڵی خۆتان مهكوژن له ترسی ههژاریدا، (عهرهب له كۆندا ههندێكیان وایان ئهكرد) [ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَإِيَّاكُمْ ] ئێمه ڕزقی مناڵهكان و خۆیشتان ئهدهین [ إِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْئًا كَبِيرًا (٣١) ] بهڕاستی كوشتنی منداڵ تاوانێكی یهكجار گهورهیه.
قتل اولاد کی مذمت دیکھو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بہ نسبت ان کے ماں باپ کے بھی زیادہ مہربان ہے۔ ایک طرف ماں باپ کو حکم دیتا ہے کہ اپنا مال اپنے بچوں کو بطور ورثے کے دو اور دوسری جانب فرماتا ہے کہ انہیں مار نہ ڈالا کرو۔ جاہلیت کے لوگ نہ تو لڑکیوں کو ورثہ دیتے تھے نہ ان کا زندہ رکھنا پسند کرتے تھے بلکہ دختر کشی ان کی قوم کا ایک عام رواج تھا۔ قرآن اس نافرجام رواج کی تردید کرتا ہے کہ یہ خیال کس قدر بودا ہے کہ انہیں کھلائیں گے کہاں سے ؟ کسی کی روزی کسی کے ذمہ نہیں سب کا روزی رساں اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ سورة انعام میں فرمایا آیت (وَلَا تَقْتُلُوْٓا اَوْلَادَكُمْ خَشْـيَةَ اِمْلَاقٍ ۭ نَحْنُ نَرْزُقُهُمْ وَاِيَّاكُمْ ۭ اِنَّ قَتْلَهُمْ كَانَ خِطْاً كَبِيْرًا 31) 17۔ الإسراء :31) فقیری اور تنگ دستی کے خوف سے اپنی اولاد کی جان نہ لیا کرو۔ تمہیں اور انہیں روزیاں دینے والے ہم ہیں۔ ان کا قتل جرم عظیم اور گناہ کبیرہ ہے۔ خطا کی دوسری قرأت خطا ہے دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ بخاری و مسلم میں ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ نے پوچھا یا رسول اللہ ﷺ اللہ کے نزدیک سب سے بڑا گناہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھیرائے حالانکہ اسی اکیلے نے تجھے پیدا کیا ہے۔ میں نے پوچھا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی اولاد کو اس خوف سے مار ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھائیں گے۔ میں نے کہا اس کے بعد ؟ فرمایا یہ کہ تو اپنی پڑوسن سے زنا کاری کرے۔
費やすことで降りかかるかもしれない将来的な貧しさを恐れて、あなた方の子供たちを殺してはならない。われらがかれらの糧も、あなた方の糧も保障するのである。かれらは無実で、殺害に値する理由もない。かれらの殺害は大きな罪である。